مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کا پھیلاؤ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ

متحدہ ۔12فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول میں حالیہ اضافے کے اقدامات فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔جنیوا سے جاری بیان میں وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں اپنے کنٹرول کو وسعت دینے سے متعلق حالیہ فیصلے واپس لے۔ …

متحدہ ۔12فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول میں حالیہ اضافے کے اقدامات فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔جنیوا سے جاری بیان میں وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں اپنے کنٹرول کو وسعت دینے سے متعلق حالیہ فیصلے واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانے کی جانب ایک اور قدم ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان فیصلوں پر عمل درآمد ہوا تو اس سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ان کی زمینوں پر قبضے میں تیزی آئے گی اور مزید غیر قانونی اسرائیلی بستیاں قائم ہوں گی۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی عوام اپنے قدرتی وسائل اور دیگر بنیادی انسانی حقوق سے مزید محروم ہو جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق 8 فروری کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے ایک پیکج کی منظوری دی جس کے تحت مغربی کنارے کے ایریاز اے اور بی میں اسرائیلی سول اتھارٹی کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا۔ یہ علاقے مجموعی طور پر مغربی کنارے کے تقریباً 40 فیصد حصے پر مشتمل ہیں۔

اوسلو معاہدوں کے تحت ان میں سے بعض اختیارات فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔نئے اقدامات کے تحت قوانین میں تبدیلی کر کے اسرائیلی حکام اور افراد کو ایریاز اے اور بی میں زمین حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی، جسے وولکر ترک نے قانونِ قبضہ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے بقول اس سے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے غیر قانونی عمل کو مزید تقویت ملے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فیصلوں کے تحت جنوب مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے بعض حصوں میں فلسطینی اتھارٹی کے منصوبہ بندی اور تعمیرات سے متعلق اختیارات بھی واپس لے لیے جائیں گے، جن میں مسجد ابراہیمی (کیو آف دی پیٹری آرکس) جیسے اہم مذہبی مقامات شامل ہیں۔ اسی طرح بیت الحم میں راحیل کے مقبرے پر بھی اسرائیلی انتظامی کنٹرول قائم کیا جائے گا تاکہ بستیوں کی توسیع کو تیز کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف فلسطینیوں کے زمینی حقوق بلکہ ان کے ثقافتی اور مذہبی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی کنارے میں آبادکاروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں، جبری انخلا ، گھروں کی مسماری اور نقل و حرکت پر پابندیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔وولکر ترک نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی تناسب کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کے تیز رفتار اقدامات جاری ہیں، جو ایک قابض قوت کے طور پر اسرائیل کی ذمہ داریوں کے منافی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لیا جائے، تمام بستیوں کو خالی کیا جائے اور اسرائیلی قبضہ ختم کیا جائے۔