مقبوضہ کشمیر،جموں اور بھارت میں کشمیریوں پرحملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے

سرینگر ۔ 16 فروری (اے پی پی) مقبوضہ کشمےر مےں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے جموں اور بھارت کی مختلف رےاستوں مےں کشمےری مسلمانوں پر حملوں کے خلاف لوگوں نے سرےنگر ، اسلام آباد اور دےگر علاقوں مےں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔ کشمےرمےڈےا سروس کے مطابق سرےنگر اور اسلام آباد قصبے مےں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ بھارتی فوجےوں اور پولےس نے مظاہرےن …

سرینگر ۔ 16 فروری (اے پی پی) مقبوضہ کشمےر مےں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے جموں اور بھارت کی مختلف رےاستوں مےں کشمےری مسلمانوں پر حملوں کے خلاف لوگوں نے سرےنگر ، اسلام آباد اور دےگر علاقوں مےں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔ کشمےرمےڈےا سروس کے مطابق سرےنگر اور اسلام آباد قصبے مےں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ بھارتی فوجےوں اور پولےس نے مظاہرےن کو منتشرکرنے کے لےے آنسوگےس سمےت طاقت کا وحشےانہ استعمال کےا جس کے بعد مظاہرےن اور فورسز اہلکاروں کے درمےان جھڑپےں ہوئےں۔ سرےنگر مےں تاجروں اور دکانداروں نے کشمےرےوں کو نشانہ بنانے کے خلاف احتجاج کے لےے لالچوک اور ملحقہ علاقوں مےں ہڑتال کی۔ کشمےر ٹرےڈرز اےنڈ مےنو فےکچررز فورم ، کشمےر اکنامک الائنس اوروادی کشمےر کی دےگر تاجر تنظےموں نے کشمےرےوں پر حملوں کے خلاف کل مقبوضہ علاقے مےں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ جموںشہر مےں کرفےو کے باوجود ہندو انتہا پسندوں نے آج جانی پورہ کالونی مےں کشمےرےوں کی گاڑےوں اور رہائشی کوارٹروں پر حملے کیے۔ ہندوانتہا پسندوں نے بھارتی رےاست ہرےانہ اور دہرادون مےں کشمےری طلباءپر حملہ کئے اور انہےں ہراساں کےا۔ مےرواعظ عمرفاروق، محمد اشرف صحرائی ، محمد ےاسےن ملک ، محمد فاروق رحمانی اور جماعت اسلامی مقبوضہ کشمےر سمےت حرےت رہنماﺅں اور تنظےموںنے اپنے بےانات مےں کشمےریوں پر حملوں کی شدےد مذمت کی ہے۔ درےں اثناءخانقاہ معلی شاہ ہمدان مسجد سرےنگر مےں اےک تقرےب کے دوران مقبوضہ کشمےر کے نئے مفتی اعظم ، مفتی ناصرالاسلام کی دستاربندی کی گئی۔کل جماعتی حرےت کانفرنس آزاد کشمےر شاخ نے اسلام آباد مےں اےک اجلاس کے دوران کہاہے کہ مقبوضہ کشمےر مےں ہونے والی ہر ہلاکت پر کشمےری عوام اور قےادت کو افسوس ہوتا ہے۔ اجلاس مےں کہا گےا کہ کشمےری ہرروز اپنے پےاروں کو قتل ہوتا ہوا دےکھتے ہےںاور وہ ان خاندانوں کے درد کو محسوس کرسکتے ہےں جو اس کرب سے گزرے ہےں۔ ادھر امور کشمیر اور علاقائی صورتحال پر نظررکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے نے جس مےں 40سے زائد بھارتی فورسز اہلکار ہلاک اورکئی زخمی ہوگئے تھے، کئی سولات کو جنم دیاہے اور یہ بھارتی حکومت اور فوجی قےادت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے اور مقبوضہ علاقے میں جاری مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے جےسے مذموم مقاصد کے حصول کی ایک اور ساز ش لگتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میںبھارتی پارلیمنٹ حملے، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں، پٹھانکوٹ اور اوڑی حملوںکے وقت بھی بھارت نے پاکستان اور اس کی انٹلی جنس اےجنسےوںپر الزام لگاےاتھا لےکن بعد مےں پتہ چلا کہ ےہ کارروائےاں بھارتی حکومت ،اسکی اےجنسےوں ےا بھارتی فوج کے حماےت ےافتہ عناصر کی کارستانےاں تھےں۔بھارتی آئےن کی دفعہ 35-A کو منسوخ کرنے کے حوالے سے نئی دہلی مےں بھارتی سپرےم کورٹ مےں دائر درخواستوں کی سماعت 19اور21فروری کے درمےان ہوگی ۔ اس دفعہ کے تحت جموںوکشمےر کے پشتےنی باشندوں کو خصوصی حقوق اور مراعات حاصل ہےں۔

مزید خبریں