گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ نیشنل ورکشاپ میں ماہرین کے علم، تجربے اور بصیرت سے استفادہ اور باہمی مکالمے کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کا بہتر ادراک حاصل ہوا ہے تاہم ورکشاپ کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حاصل ہونے والی اجتماعی دانش کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے
بلوچستان میں بلیو اکانومی، معدنیات، توانائی اور علاقائی تجارت کے وسیع امکانات ہیں، جعفر مندوخیل

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 27 ستمبر (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ نیشنل ورکشاپ میں ماہرین کے علم، تجربے اور بصیرت سے استفادہ اور باہمی مکالمے کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کا بہتر ادراک حاصل ہوا ہے تاہم ورکشاپ کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حاصل ہونے والی اجتماعی دانش کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اکیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورکشاپ کے فکری مباحث اور کورس بلوچستان اور پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے عملی رہنمائی فراہم کریں گے۔ انہوں نے ورکشاپ کے منتظمین اور تمام شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شرکاء نے ماہرین کے علم، تجربے اور بصیرت سے بھرپور استفادہ کیا ہوگا اور باہمی مکالمے و مشاورت کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کو درپیش اہم چیلنجز کا بہتر ادراک حاصل کیا ہوگا۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ اب اس اجتماعی دانش کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہی نیشنل ورکشاپ کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ آج جب شرکاء ورکشاپ سے واپس جائیں گے تو ان کی ذمہ داریاں ختم نہیں بلکہ مزید بڑھ چکی ہیں۔ ان سے توقع ہے کہ یہاں حاصل ہونے والے علم، تجربے اور بصیرت کو اپنے اپنے اداروں، شعبوں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار اور ہنرمندی کے مواقع پیدا کرنے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سماجی انصاف کو مضبوط بنانے اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے خطوں سے جوڑنے کی جغرافیائی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوادر اور دیگر ساحلی علاقوں سے لے کر معدنی اور زرعی خطوں تک، صوبے کے مختلف حصے پاکستان کی معاشی ترقی اور خطے کی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی صرف ایک صوبے کی ترقی نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی اور قومی ترقی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنے وسیع رقبے، منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، طویل ساحلی پٹی، قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر کے باعث پاکستان میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صوبے میں بلیو اکانومی، معدنیات، توانائی، زراعت، سیاحت اور ریجنل تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایسے علمی و فکری اجتماعات محض معلومات کے تبادلے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ مختلف شعبوں کے تجربات، خیالات اور نقطۂ نظر کو یکجا کرکے قومی مسائل کے حل کیلئے نئی سوچ اور قابلِ عمل راستوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اکیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب کے شرکاء میں اسناد اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیے۔







