وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے افغان طالبان کے بے بنیاد الزامات کو رپورٹ کرنے والی رائٹرز کی خبرمیں صحافتی ذمہ داری اور تصدیق کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے
کنڑ اور نورستان میں ہلاک یا گرفتار افراد کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کے ٹھوس شواہد سامنے لائے جائیں،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے افغان طالبان کے بے بنیاد الزامات کو رپورٹ کرنے والی رائٹرز کی خبرمیں صحافتی ذمہ داری اور تصدیق کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کنڑ اور نورستان میں ہلاک یا گرفتار افراد پاکستانی تھے تو ان کی شناخت، شہریت اور وابستگی کے ٹھوس شواہد سامنے لائے جائیں۔اتوار کوایکس پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ محض الزامات کو حقائق کے طور پرپیش نہیں کیا جا سکتا، پاکستان افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کی مسلسل نشاندہی کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان نے بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے، تاہم ان حقائق کو اکثر کم توجہ ملتی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان جانچ پڑتال سے نہیں گھبراتا، ہم شواہد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عالمی میڈیا غیر مصدقہ الزامات کو آگے بڑھانے کے بجائے درستگی، آزادانہ تصدیق اور غیر جانب داری کے اصولوں کی پاسداری کرے۔







