حکومت پی آئی اے کیلئے نہ طیارے خرید رہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے قرض کا اعلان کیاگیا ہے،خرم شہزاد

وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پی آئی اے اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے حوالے سے حقائق واضح کرنا ضروری ہیں، کیونکہ گردش کرنے والے بعض تبصروں میں نجکاری کے عمل اور برآمدی قرض فراہم کرنے والے ادارے کے کردار کو درست طور پر واضح نہیں کیاگیا

اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پی آئی اے اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے حوالے سے حقائق واضح کرنا ضروری ہیں، کیونکہ گردش کرنے والے بعض تبصروں میں نجکاری کے عمل اور برآمدی قرض فراہم کرنے والے ادارے کے کردار کو درست طور پر واضح نہیں کیا گیا۔اتوار کو ایکس پر اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری کے بعد پی آئی اے کے لیے نہ طیارے خرید رہی ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی حکومتی ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے قرضے کا اعلان کیا گیا ہے۔مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ایگزم بینک کی طرح ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی طرح امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کا بنیادی مقصد بھی اپنے ملک کی برآمدات اور روزگار کو فروغ دینا ہے۔ بوئنگ طیارے امریکی برآمدات ہیں اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک غیر ملکی خریداروں، بشمول فضائی کمپنیوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے فریم ورک میں اثاثوں کی بنیاد پر طیاروں کی فنانسنگ کی گنجائش موجود ہے جبکہ طیارہ خود فنانسنگ کے لیے سکیورٹی کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے اور حکومتی ضمانت لازمی شرط نہیں۔خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کا کردار پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ، ٹیکنالوجی، سپلائرز اور سرمایہ کاری کے دروازے کھولنا اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کی امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے بات چیت صرف پی آئی اے تک محدود نہیں تھی بلکہ بات چیت میں ہوابازی، ریفائنریوں کی توسیع و بہتری اور ریکو ڈِک سمیت مختلف شعبوں میں ممکنہ مالی معاونت کے مواقع زیر غور آئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کا کردار بتدریج کم کرنے، نجکاری کو آگے بڑھانے اور نجی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کا مطلب حکومت کا نجی شعبے سے دستبردار ہونا نہیں بلکہ خود کاروبار چلانے کے بجائے کاروبار کے لیے سازگار ماحول اور سہولت فراہم کرنا ہے۔مشیر وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ’’عوامی قرض‘‘، ’’پوشیدہ سبسڈی‘‘ یا ’’ریاستی مالی پشت پناہی‘‘ کے کسی انتظام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سرکاری بیان میں ممکنہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک فنانسنگ کا ذکر ہے، پی آئی اے کے لیے حکومتی قرض یا حکومتی ضمانت کا اعلان نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نجکاری کا مطلب ملکیت اور تجارتی انتظام کی منتقلی ہے، پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع اور بین الاقوامی دروازے بند کرنا نہیں۔ فرق واضح ہے کہ حکومت سہولت فراہم کرتی ہے، کاروباری ادارے سرمایہ کاری کرتے اور کاروبار چلاتے ہیں جبکہ فنانسنگ اپنی تجارتی شرائط اور مالیاتی ڈھانچے کے مطابق ہوتی ہے۔