صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہر شہری کے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے فروغ پذیر ماحول میں درست اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی ایک باخبر جمہوریت کے لیے نہ صرف مزید کٹھن بلکہ انتہائی اہم بن گئی ہے
ہر شہری کے معلومات تک رسائی کے آئینی حق کے لیے پر عزم ہیں،درست اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی ایک باخبر جمہوریت کے لیے نہایت اہم ہے ، صدر مملکت کا معلومات تک ہمہ گیر رسائی کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہر شہری کے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے فروغ پذیر ماحول میں درست اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی ایک باخبر جمہوریت کے لیے نہ صرف مزید کٹھن بلکہ انتہائی اہم بن گئی ہے جو اس امر کی متقاضی ہے کہ متعلقہ اداروں، عوام دوست صحافیوں، میڈیا اداروں، شعبۂ ابلاغ سے وابستہ ماہرین، محققین اور دیگر ماہرین کے کردار پر زیادہ توجہ دی جائے تاکہ شہری تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اطلاعاتی ماحول میں بہتر طور پر رہنمائی حاصل کر سکیں ۔انہوں نے یہ بات معلومات تک ہمہ گیر رسائی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 28 ستمبر کو منایا جا رہا ہے ۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے معلومات تک ہمہ گیر رسائی کے عالمی دن پر ہر شہری کے معلومات تک رسائی کے حق بالخصوص عوامی اہمیت کے معاملات سے متعلق معلومات تک رسائی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں شہری اس وقت ہی عوامی زندگی میں بامقصد طور پر حصہ لے سکتے ہیں جب انہیں بروقت، مستند اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اس حق کے لیے واضح بنیاد فراہم کرتا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم نے آزادی اظہار کے آئینی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا اور آرٹیکل 19-اے شامل کیا گیا جو ہر شہری کو قانون کے تحت متعلقہ ضوابط اور معقول پابندیوں کے تابع تمام عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مزید برآں وفاقی سطح پر حقِ رسائی معلومات ایکٹ 2017 بھی معلومات تک رسائی کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ تاہم آج معلومات جاننے کا حق مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے فروغ نے معلومات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنج اب صرف یہ نہیں رہا کہ معلومات دستیاب ہیں یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ شہری قابلِ اعتماد معلومات اور ایسے مواد میں فرق کر سکیں جو جھوٹا، تحریف شدہ یا دانستہ طور پر گمراہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہو۔صدرممللکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر، دہشت گرد اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور بے قابو اور حد سے زیادہ طاقتور ٹیکنالوجی کمپنیوں سمیت مختلف عناصر کی جانب سے معلومات کو مسخ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں درست اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی ایک باخبر جمہوریت کے لیے نہ صرف مزید کٹھن بلکہ انتہائی اہم بن گئی ہے ۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عوام دوست صحافیوں، میڈیا اداروں، شعبۂ ابلاغ سے وابستہ ماہرین، محققین اور دیگر ماہرین کے کردار پر زیادہ توجہ دی جائے تاکہ شہری تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اطلاعاتی ماحول میں بہتر طور پر رہنمائی حاصل کر سکیں لہٰذا ہمارا ردعمل ایسا ہونا چاہیے کہ شہری کے معلومات جاننے کے حق کا تحفظ کیا جائے جبکہ تجارتی بنیادوں پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور گمراہ کن اطلاعات سے نمٹنے کی کوششیں جائز عوامی مفاد کی صحافت، منصفانہ تنقید اور بامعنی عوامی مباحثے کو دبانے کا ذریعہ نہ بنیں۔صدرمملکت نے کہا کہ عوامی اداروں کی جانب سے شفافیت، جوابدہی اور ذمہ دارانہ ابلاغ بدستور ناگزیر ہیں۔ شہریوں کو قابلِ اعتماد ذرائع سے مستند معلومات حاصل کرنے کے قابل ہونا چاہیے، بالخصوص ان معاملات پر جو براہِ راست ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے اس امر پر زور دیا کہ آئیے، اس دن ہم شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کے تحفظ اور ان اداروں اور پیشہ ورانہ طریقہ ہائے کار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کریں جو تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اطلاعاتی ماحول میں اس حق کے تحفظ اور فروغ کے لیے ضروری ہیں۔







