سرینگر ۔ یکم نومبر(اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 89ویں روز بھی وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میںبھارت کی طرف سے عائد غیر معمولی فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع معطل ہونے کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس جدید دور میں بھی وادی کشمیرمیںانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسزمسلسل مکمل طورپر معطل ہونے کے باعث 80لاکھ کشمیریوںکومشکلات کا سامنا ہے۔ …
مقبوضہ کشمیر میںمسلسل 89 ویں روز بھی معمولات زندگی بری طرح مفلوج

مزید خبریں
سرینگر ۔ یکم نومبر(اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 89ویں روز بھی وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میںبھارت کی طرف سے عائد غیر معمولی فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع معطل ہونے کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس جدید دور میں بھی وادی کشمیرمیںانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسزمسلسل مکمل طورپر معطل ہونے کے باعث 80لاکھ کشمیریوںکومشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ پوسٹ پیڈ موبائل فون اور لینڈ لائن ٹیلیفون پر پابندی جزوی طورپر ہٹادی گئی ہے تاہم نظام زندگی معلوم پر نہیں آسکا ہے۔ وادی کشمیر کے عوام بھارتی تسلط اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے 5اگست کے یکطرفہ اقدام اور اس کے بعدجموںوکشمیر کو دووفاقی علاقوںمیں تقسیم کرنے کے خلا ف خاموش احتجاج کے طورپر اپنی دکانیں بند ، سکولوںاور دفاتر کا بائیکاٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دفعہ144کے تحت پابندیاں بھی نافذ ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین سروس مسلسل معطل ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں جاری سول نافرمانی کی تحریک کے دوران اگرچہ دکاندار اپنی دکانیں صبح کے وقت چند گھنٹے کیلئے ہی کھولتے ہیںاور وہ مسلسل بھارتی فوج کی طرف سے سارا دن دکانیں کھولنے کی ہدایات پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قابض انتظامیہ کی طرف سے لوگوںکوآج نماز جمعہ کے بعدبھارت مخالف مظاہرے کرنے سے روکنے کیلئے وادی کشمیر سخت پابندیاں نافذ کرنے کا خدشہ ہے۔ قابض انتظامیہ نے 05 اگست کے بعد سے مقبوضہ علاقے کی تمام بڑی مساجد اور درگاہوں میں نمازجمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی ہے۔








