ملکی ترقی کیلئے برآمدات پر مبنی معیشت تشکیل دینا ہوگی ،ای وہیکلز کا فروغ ایندھن کی درآمدی لاگت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ احسن اقبال

"پاکستان کی پائیدار ترقی کا انحصار توانائی، جدت اور صنعتی توسیع پر ہے، درآمدی انحصار سے نکل کر برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب بڑھنا ہوگا۔” — وفاقی وزیر احسن اقبال

لاہور۔25جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا انحصار پائیدار توانائی ،جدت و صنعتی توسیع پر ہے، درآمدی انحصار سے نکل کر برآمدات پر مبنی معیشت تشکیل دینا ہوگی،

ای ویز کا انقلاب برپا ہو چکا ،الیکٹرک وہیکلز کا فروغ ایندھن کی درآمدی لاگت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جدید ٹیکنالوجی ،الیکٹرک وہیکلز اور گرین انرجی کی جانب تیزی سے بڑھنا ہو گا،نجی شعبہ پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،ہمیں ڈالر زکمانے والی معیشت کی طرف آنا ہے،نوجوانوں کو جدید معیشت کے تقاضوں کے مطابق مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے ،پاکستان نے امن کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ،معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہی،بھارت معرکہ حق میں شکست کے بعد غیر روایتی جنگ کر رہا ہے،ہمیں فتنہ الہندوستان کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کی لہر کا سامنا ہے،عوام کو عالمی منظر نامے بارے آگاہ کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے، حکومت صاف ،سستی اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے،صنعتی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی ناگزیر ہے،حکومت کاروبار دوست ماحول اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے،حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات پر بہت کام کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ایکسپو سنٹر میں جدید الیکٹرک وہیکلز ،توانائی پاکستان نمائش کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی خود مختاری اور پائیدار ترقی کا انحصار برآمدات میں خاطر خواہ اضافے پر ہے، ملک کو تیزی سے درآمدات پر مبنی معیشت سے برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اپنے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ای وی کو متعارف کرائیں اور ٹو ویلرز، تھری ویلرز اور فور ویلرز کو مرحلہ وار برقی توانائی پر منتقل کیا جائے،اس حوالے سے حکومت نے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے ، حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ کے لیے 80 ہزار روپے تک سبسڈی سمیت مختلف مراعات دی ہیں جبکہ حالیہ بجٹ میں ای وی گاڑیوں پر ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے تاکہ ان کو ملک میں زیادہ سے زیادہ متعارف کرایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پاور سیکٹر میں 6 سے 8 ہزار میگاواٹ سولر انرجی کے ذریعے توانائی کا ایک بفر پیدا کیا ہے، اب ضرورت ہے کہ درآمدی تیل پر انحصار کم کرکے ملکی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کو ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جائے، تمام انڈسٹری سے بھی کہا ہے اور حکومت کی بھی اڑان پاکستان کے تحت واضع ترجیح ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ہماری برآمداتی صلاحیت پر انحصار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو کھپت پر مبنی معیشت کے بجائے ڈالر کمانے والی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ ملک کی معاشی خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو مطلوبہ رفتار سے بڑھا سکتے ہیں یا نہیں۔ ہر کاروباری شخص کو برآمد کنندہ بننے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور نجی شعبے کو برآمدات میں اضافے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی جائے۔ پاکستان کے ای وی سیکٹر میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم موجودہ برآمدات کے حجم میں کم از کم دس گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے ٹیکس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ ٹیکسوں کی اسیسمنٹ میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ٹیکس نظام کو مزید شفاف بنایا جا سکے اور بڑی حد تک ان شکایات کو دور کرنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریبا ساڑھے 9 فیصد ہے، جبکہ ترقی کرنے والے ہم پلہ ممالک میں یہ شرح 14 سے 16 فیصد تک ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس چوری کا خاتمہ اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ناگزیر ہے، اگر ٹیکس چوری جاری رہے گی اور ہم اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہیں کریں گے تو حکومت کے پاس تو کوئی ذرائع نہیں ہے کہ وہ نئے نئے عوامی ترقیاتی منصوبے شروع کرے، جو لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، وہ بدقسمتی سے ان افراد کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں جو ٹیکس چوری کرتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ ٹیکس بیس وسیع ہو اور ٹیکسوں کی شرح اور عوام پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے معرکہ حق جیتا اور اپنے روایتی حریف بھارت کو روایتی جنگ کے اندر دندان شکن جواب دے کر عبرت ناک شکست دی تو اس کی ہزیمت میں اب اس نے بزدلانہ طور پہ پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے غیر روایتی جنگ شروع کر رکھی ہے، جس طرح ہم نے روایتی جنگ میں بھارت کو شکست دی ہے اسی طرح انشااللہ تعالی اس غیر روایتی جنگ میں بھی ہم اس کے عزائم کو زمین بوس کریں گے اور اس کے سہولت کاروں کو بھی اسی انجام سے دوچار کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارت کاری کے ذریعے دنیا میں امن پسند ملک کے طور پر نئے تشخص کے ساتھ ابھرا ہے جبکہ ملکی معیشت بھی طویل عرصے بعد بحالی کی جانب گامزن ہے،ماضی میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، ملک کی خوش قسمتی تھی کہ چند دنوں بعد تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور ملک اس عذاب سے بچ نکلا وگرنہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کر جاتا تو اس کہ ہمیں بہت سنگین قیمت ادا کرنی پڑتی ،آج اللہ کا شکر ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جو جرات مندانہ اقدامات اٹھائے اس کے نتیجے میں آج پھر ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں انہیں ایڈجسٹ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سے آگاہ کرے۔ ا نہوں نے کہا کہ جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی، اس کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ جنگ کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور عام آدمی متاثر ہوتا ہے،کیونکہ اس جنگ کی قیمت صرف امریکہ اور ایران میں ادا نہیں کرنی اس جنگ کی قیمت 193 ممالک کی معیشتیں بھی ادا کر رہی ہیں اور خود یہ ممالک بھی براہ راست اس جنگ کی اثرات کے اندر متاثر ہو رہے ہیں ، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھتی ہے، اس لیے عالمی برادری کو امن کے قیام کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران مذاکرات اور معاہدے کی طرف واپس آئیں گے تاکہ خطے میں امن قائم ہو اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔