لاہور۔28مارچ (اے پی پی):پاکستان کے بین الاقوامی فٹ بالرز عالمگیر غازی اور عبداللہ شاہ نے ملکی فٹ بال کی بحالی کے لیے مقامی ڈھانچے میں فوری اصلاحات اور مستقل پروفیشنل لیگ کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا ہے۔بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ''برادرز یونین ایف سی ''کی نمائندگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں کھلاڑیوں نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ عبداللہ شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان …
ملکی فٹ بال کی بحالی کیلئے مقامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں،قومی فٹ بالرز
لاہور۔28مارچ (اے پی پی):پاکستان کے بین الاقوامی فٹ بالرز عالمگیر غازی اور عبداللہ شاہ نے ملکی فٹ بال کی بحالی کے لیے مقامی ڈھانچے میں فوری اصلاحات اور مستقل پروفیشنل لیگ کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا ہے۔بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ”برادرز یونین ایف سی ”کی نمائندگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں کھلاڑیوں نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ عبداللہ شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مستقل مقامی لیگ کی عدم موجودگی میں غیر ملکی لیگز میں کھیلنا کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک فٹ بالر کی مہارت صرف میدان میں وقت گزارنے اور مسابقتی میچز کھیلنے سے ہی بڑھتی ہے، جس سے پاکستانی کھلاڑی طویل عرصے سے محروم ہیں۔عالمگیر غازی نے بنگلہ دیشی لیگ کو سیکھنے کا ایک بہترین موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر دبائو کا سامنا کرنے کے لیے کھلاڑیوں کا مستقل لیگز کا حصہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ بنگلہ دیشی لیگ یورپی معیار کی نہیں، مگر یہ جنوبی ایشیاء کی مضبوط ترین لیگز میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں،تاہم چترال، بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے علاقوں میں موجود ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے انفراسٹرکچر واکیڈمیز کا فقدان ہے۔دونوں کھلاڑیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان فٹ بال کا مستقبل ایک فعال ڈومیسٹک سسٹم سے وابستہ ہے۔ عبداللہ شاہ، جنہوں نے طویل عرصہ فٹ بال کی سرگرمیاں معطل رہنے کی وجہ سے اپنا سنہری دورگنوا دیا، اب مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار کے خلاف حالیہ میچز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین موقع ہیں۔انہوں نے کہ اگر پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک کا مقابلہ کرنا ہے تو فٹ بال کے ماحولیاتی نظام کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔









