اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ ملکی معیشت مالی سال 2026 میں ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے، جنوری 2026ء میں مہنگائی 5 سے لے کر 6 فیصد کی حد میں رہے گی۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بڑی صنعتوں کی پیداور اور دیگر معاشی …
ملکی معیشت مالی سال 2026 میں ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے، رواں ماہ میں مہنگائی 5 سے 6 فیصد کی حد میں رہے گی،وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ ملکی معیشت مالی سال 2026 میں ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے، جنوری 2026ء میں مہنگائی 5 سے لے کر 6 فیصد کی حد میں رہے گی۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بڑی صنعتوں کی پیداور اور دیگر معاشی اشاریوں کی حوصلہ افزاء کارکردگی کی وجہ سے مالی سال 2026 میں ملکی معیشت ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے، یہ مثبت رجحان محتاط پالیسیوں، جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مہنگائی کے دبائو میں کمی کے باعث مالیاتی حالات میں نرمی کے اثرات کی عکاسی کررہاہے۔
رپورٹ کے مطابق حسابات جاریہ کے کھاتے خسارے میں رہنے کا امکان ہے تاہم ترسیلات زر کی مضبوط آمد اور آئی ٹی اور خدمات کی برآمدات کی مستحکم کارکردگی کی وجہ سے بیرونی دبائو کو کم کرنے میں معاونت ملے گی، بہتر مالیاتی نظم و نسق سے بھی کلی معیشت کے استحکام میں مددملنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی ششماہی میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات کاحجم 19.33 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 17.84 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 10.6 فیصد زیادہ ہے،پہلی ششماہی میں برآمدات کاحجم 15.5 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 16.3 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 5 فیصد کم ہے،درآمدات پر31.3 ارب ڈالر زرمبادلہ خرچ ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 27.9 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 12.3 فیصد زیادہ ہے۔
حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 1.174 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ،گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن 957 ملین ڈالر فاضل تھا،پہلی ششماہی میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کاحجم 808.1 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1424.8 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 43.3 فیصد کم ہے،16جنوری 2026ء کوسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 16.1 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 5.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ،گزشتہ سال 10جنوری کوسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 11.4 ارب ڈالر اورکمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 4.7 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایف بی آرکے محاصل کاحجم 6.160ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.624ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 9.5 فیصد زیادہ ہے
،نان ٹیکس محصولات کاحجم 3.581ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.417ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 4.8 فیصد زیادہ ہے،مالی خسارہ کاحجم 981.5 ارب روپے جبکہ پرائمری خسارہ 3.651ٹریلین روپے رہا،وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں زرعی شعبہ کو1.411 ٹریلین روپے کے قرضہ جات جاری کئے گئے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.266ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 11.4 فیصد زیادہ ہے،9 جنوری تک نجی شعبہ کو578.4 ارب روپے کے قرضہ جات جاری ہوئے،17 دسمبر 2024ء کوپالیسی ریٹ 13 فیصد تھا جواس وقت 10.5 فیصد ہے۔
مالی سال کی پہلی ششماہی میں صارفین کیلئے قیمتوں کاعمومی اشاریہ 5.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 7.2 فیصد تھا،بڑی صنعتوں کی پیداوارکی شرح نمو6.01 فیصد ریکارڈکی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی ششماہی میں کیپٹل مارکیٹ نے بہترین کارگردگی کامظاہرہ کیا،26جنوری کوپاکستان سٹاک مارکیٹ کاکے ایس ای 100انڈیکس 188587 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا
، گزشتہ سال 24جنوری کوکے ایس ای 100انڈیکس 114880پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا تھا،26جنوری کومارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 75.60 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ،26جنوری 2025ء کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 50.64 ارب ڈالر تھا،پہلی ششماہی میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کاحجم 21671ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 28.7 فیصد زیادہ ہے۔








