ملک بھر میں 29 مختلف بینکوں کی 18 ہزار برانچز صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہیں، سلیم اللہ صدیقی
ملک بھر میں 29 مختلف بینکوں کی 18 ہزار برانچز صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہیں، سلیم اللہ صدیقی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں 29 مختلف بینکوں کی 18 ہزار برانچز صارفین کو بینکاری کی خدمات فراہم کر رہی ہیں، بینکاری کے نظام پر عوامی اعتماد میں اضافہ اور ارزاں نرخوں پر شفاف خدمات کی فراہمی ضروری ہے۔ معروف تجزیہ کار سلیم اللہ صدیقی نے اپنی رپورٹ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں 29 مختلف سرکاری، نجی ڈیجیٹل، غیر ملکی اور کمرشل بینک عوام کو بینکاری کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور ملک بھر میں ان بینکوں کی تقریباً 18 ہزار برانچز کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی جانب سے لسٹڈ 19 بینکوں میں الائیڈ بینک، عسکری بینک، بینک آف پنجاب، بینک الفلاح، بینک الحبیب، بینک آف خیبر، فیصل بینک، حبیب بینک، حبیب میٹرو پولیٹن بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک سمیت دیگر بینک شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی لین دین کا محفوظ ذریعہ بینک ہی ہیں تاہم اس وقت پاکستان میں صرف 30 فیصد عوام بینکاری کی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ سلیم اللہ صدیقی نے کہا کہ بینکاری کے نظام میں عوام کے اعتماد میں اضافہ کی ضرورت ہے اور اس حوالہ سے بینکوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو سستے نرخوں پر شفاف خدمات کی فراہمی یقینی بنائیں۔







