عصر حاضر کے مسائل کا حل سیرتِ طیبہ میں ہے، تعلیم و تحقیق سے دوری مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پروفیسر احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عصر حاضر کے مسائل کا حل سیرتِ طیبہ میں ہے، تعلیم و تحقیق سے دوری مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے،سیرت سینٹرکے قیام کا مقصد نوجوان نسل کو نبی کریم ۖ کی آفاقی تعلیمات سے جوڑنا ہے

لاہور۔12ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عصر حاضر کے مسائل کا حل سیرتِ طیبہ میں ہے، تعلیم و تحقیق سے دوری مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے،سیرت سینٹرکے قیام کا مقصد نوجوان نسل کو نبی کریم ۖ کی آفاقی تعلیمات سے جوڑنا ہے ، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے نوجوان نسل کو جدید علوم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کردار سازی کی بھی اشد ضرورت ہے،مسلمانوں کو کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے اجتماعی خود احتسابی کرنا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز سیرت سنٹر لاہور میں سیرت کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مختلف جامعات کے اساتذہ، طلبہ، مذہبی اسکالرز، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندگان کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ ۖ کی حیاتِ طیبہ پوری انسانیت کیلئے بہترین مشعلِ راہ ہے، سیرتِ نبویﷺ ۖ ہمارے لیے کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے اور عصر حاضر کے مسائل کا حل سیرتِ طیبہ کی روشنی میں تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،سیرتِ نبویﷺ ۖ پر عمل ہی ایک مثالی معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے،نبی کریمﷺ ۖ نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں انسان کی عزت، جان و مال کا تحفظ، عدل، مساوات اور باہمی احترام بنیادی اقدار تھے، آج اگر ہم اپنے معاشرے میں حقیقی امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں تو ہمیں سیرتِ رسول ۖ کی آفاقی تعلیمات کو محض تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی تہذیب کی بقا کے لیے دو بنیادی عناصر انتہائی اہم ہوتے ہیں، ایک اس تہذیب کے قیام کا مقصد اور دوسرا اس کی شناخت، جب کوئی قوم اپنے مقصد اور شناخت سے دور ہوجاتی ہے تو اس کے زوال کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کو دیگر مخلوقات پر برتری اس کے شعور، وجدان اور مقصدِ حیات کے ادراک کی وجہ سے حاصل ہے اگر انسان اپنے اعلی مقصد کو بھلا دے تو وہ اپنی زندگی کو محض حیوانی سطح تک محدود کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان آج مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی کثرت کے باوجود بے بسی کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، غزہ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نے پوری امت کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے، ایک نسبتا چھوٹی آبادی رکھنے والی ریاست کی جانب سے دو ارب کے قریب مسلمانوں کو مسلسل پسپائی کا سامنا ہونا امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، ان حالات میں جذبات کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی کمزوریوں کا جائزہ اور اجتماعی خود احتسابی کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تہذیب ایک وقت میں دنیا میں اعلی مقام رکھتی تھی اور قرآن و سنت کی روشنی نے عرب معاشرے کو ایسی علمی، اخلاقی اور تہذیبی قوت عطا کی جس کی روشنی پوری دنیا میں پھیل گئی، نبی کریم ۖ نے انسانیت کو علم، آگہی، امن، محبت، اخوت، بھائی چارے، برداشت اور عدل کا درس دیا، کبھی مسلمان دنیا کو تعلیم اور تحقیق سے روشناس کروانے والے تھے لیکن آج بد قسمتی سے مسلمان علم و تحقیق میں بہت پیچھے رہ گئے ،اس کی وجوہات نبوی تعلیمات سے دوری ہے ، ہم زبان سے دعوی کرتے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں ، ہم نے سیرت کو چھوڑ دیا اور ذلالت ہمارا مقدر بن گئی۔انہوں نے کہاکہ سیرتِ نبوی ۖ کا ذکر کرنا ایک مقدس عمل ہے تاہم سیرت کانفرنس کا مقصد صرف ماضی کے واقعات کو دہرانا نہیں بلکہ نبی کریم ۖ کی حیاتِ مبارکہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے موجودہ دور کے مسائل کا حل تلاش کرنا اور اپنی عملی زندگی کو اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالنا ہے، جب تک مسلمان اپنی شناخت اور اپنے اعلی مقصد کا شعور پختہ نہیں کریں گے، وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور عالمی مقام دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے، اس لیے امت مسلمہ کو موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے خود احتسابی کرنا ہوگا کہ وہ کس طرح پستی سے نکل کر دوبارہ عروج کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عصر حاضر کے تقاضوں کو سیرتِ نبوی ۖ کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے، امت مسلمہ کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد، اخوت، برداشت اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی اور جدید علوم کو انسانیت کی فلاح اور معاشروں کی ترقی کے لیے استعمال کرنا وقت کا تقاضا ہے، پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے بھی ہمیں سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے علم، تحقیق، دیانت، کردار اور خدمتِ خلق کو اپنی اجتماعی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔خواتین کے کردار کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو آج سے تقریبا 1400 سال قبل وہ عزت، مقام اور حقوق عطا کیے جنہیں جدید دنیا نے بہت بعد میں تسلیم کیا، اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا اور اس کی اچھی پرورش کو اجر اور جنت کا ذریعہ بتایا، بیٹی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اللہ تعالی کی نعمت اور رحمت سمجھنا چاہیے، نبی کریم ۖ کا حضرت فاطمہ الزہرا کے تشریف لانے پر احتراما کھڑے ہونا خواتین کے مقام و احترام کی روشن مثال ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم خواتین نے اسلامی تاریخ میں علم و دانش، تعلیم و تربیت، سماجی خدمت اور تہذیبی ارتقا میں نمایاں خدمات انجام دیں، آج بھی خواتین کی تعلیم، تحقیق، قیادت اور قومی ترقی میں بھرپور شمولیت پاکستان کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، خواتین کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی ناگزیر ہے، سیرت سینٹر کا ایک بنیادی مقصد نوجوان نسل کو نبی کریم ۖ کی آفاقی تعلیمات سے جوڑنا ہے تاکہ وہ اپنے دین، تہذیب، تاریخ اور شناخت سے واقف ہو سکیں۔انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیرتِ نبوی ۖ کی تعلیمات کو عام کرکے نئی نسل میں شناخت، مقصد، علم، کردار اور خدمتِ انسانیت کا شعور اجاگر کیا جائے گا۔

مزید خبریں