پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ لیمبتھ پیلس میں انہیں ملنے والا عالمی ایوارڈ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر میں امن، مفاہمت اور ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے مذہبی علماء، رہنماؤں، دانشوروں اور عام لوگوں کے لیے خراجِ تحسین ہے
لیمبتھ پیلس ایوارڈ پاکستان اور عالمِ اسلام کی بین المذاہب مکالمے، انتہاپسندی کے خاتمے اور قیامِ امن کی کوششوں کا اعتراف ہے۔، طاہر اشرفی

مزید خبریں
لندن۔12ستمبر (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ لیمبتھ پیلس میں انہیں ملنے والا عالمی ایوارڈ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر میں امن، مفاہمت اور ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے مذہبی علماء، رہنماؤں، دانشوروں اور عام لوگوں کے لیے خراجِ تحسین ہے۔لیمبتھ پیلس میں ہیوبَرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن 2026” کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ یہ ایوارڈ پاکستان اور عالمِ اسلام کے مسلم علماء، مذہبی قیادت اور معاشروں کی بین المذاہب مکالمے کے فروغ، انتہاپسندی و دہشت گردی کے مقابلے اور قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ لندن کے لیمبتھ پیلس میں، جو مسیحی دنیا کا ایک بڑا مرکز ہے، مجھے بین المذاہب مکالمے، بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی میری کوششوں پر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔اشرفی نے زور دیا کہ اس ایوارڈ کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف مذہبی قیادت کی وسیع تر جدوجہد کے اعتراف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اس بات کا اعتراف ہے کہ عالمِ اسلام کی قیادت دنیا بھر میں ہر فورم پر بین المذاہب مکالمے اور امن کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور مذہبی رہنما امن کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اجتماعی طور پر کام کر رہے ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے مختلف مذاہب کے قائدین کو ساتھ ملا کر کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، جہاں بھی لوگ اقلیت میں ہیں، ان کے خلاف کسی بھی قسم کا تشدد ناقابل قبول ہے۔انہوں نے اسلام کو امن، سلامتی اور محبت کا دین قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام انبیاء کرام، بشمول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، نے بھی امن کا یہی پیغام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امن، رواداری اور مکالمے کے فروغ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور یہ ایوارڈ ان تمام افراد کے لیے ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں امن کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔اشرفی نے کہا کہ آج کا یہ ایوارڈ ان شہداء اور غازیوں، ان علماء، مشائخ، عوام، مفکرین اور دانشوروں کے لیے ہے جو دنیا میں امن کے لیے کوشاں ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات اور تشدد کے تناظر میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کوششیں مزید تیز کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مظلوم لوگوں کی آواز بننا ضروری ہے جبکہ معاشروں کو انتہاپسندی کے خلاف اپنی اجتماعی جدوجہد مزید مضبوط کرنا ہوگی۔انہوں نے مذہبی اور سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ تشدد اور نفرت کی بجائے مکالمے کو فروغ دیں ۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے اجتماعی اقدامات کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام تمام انبیاء و رسل اور آسمانی کتابوں کے احترام کا درس دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگر مذاہب کی مقدس شخصیات، مقامات اور اقدار کا احترام امن کے مشن کا بنیادی حصہ ہے۔اشرفی نے کہ ہماری جدوجہد میں یہ بات واضح طور پر شامل ہے کہ کوئی بھی کسی دوسرے کے مقدسات کی توہین نہ کرے اور ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کیا جائے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے دیگر مظلوم طبقات کی مشکلات کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امن کی کوششوں کے دوران فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو نہیں بھولنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ فلسطین میں مسلمان، مسیحی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ خوف اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں اور عالمی برادری کو ان کے دکھ اور مشکلات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔اشرفی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دنیا کے ہر خطے میں موجود مظلوم عوام کو یاد رکھے، جن میں کشمیر کے مظلوم لوگ بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں مظلوم لوگ مصائب کا شکار ہیں، خواہ وہ کشمیر میں ہوں یا کہیں اور، ہمیں انہیں یاد رکھنا چاہیے۔انہوں نے تشدد اور نفرت کی جگہ امن، محبت، رواداری اور مکالمے کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی ان کے مشن کا بنیادی مقصد ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے اپنے ساتھیوں اور معاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یہ عالمی اعزاز ان تمام لوگوں کے نام کیا جنہوں نے امن کے لیے انتھک جدوجہد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج یہاں سے ہمارا پیغام واضح ہے: آئیے امن اور سلامتی کے لیے مل کر آگے بڑھیں۔ مکالمے کو فروغ دیں، ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کریں، اقلیتوں کا تحفظ کریں اور انتہاپسندی و دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں۔







