ملک میں افراط زرکی شرح میں مارچ 2026کے دوران سالانہ بنیادوں پر7.3فیصداضافہ ریکارڈ
ملک میں افراط زرکی شرح میں مارچ 2026کے دوران سالانہ بنیادوں پر7.3فیصداضافہ ریکارڈ
اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):ملک میں افراط زرکی شرح میں مارچ 2026ء کے دوران سالانہ بنیادوں پر7.3 فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان بیوروبرائے شماریات(پی بی ایس)کی جانب سے قیمتوں کے عمومی اشاریہ(سی پی آئی) بارے ماہانہ رپورٹ کے مطابق مارچ میں افراط زرکی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جوفروری میں 7فیصد اورگزشتہ سال مارچ میں o.7 فیصد تھی،شہری علاقوں میں مارچ کے دوران افراط زرکی شرح 7.4 فیصد ریکارڈ کی گئی جوفروری میں 6.8 فیصد اورگزشتہ سال مارچ میں 1.2 فیصدتھی،دیہی علاقوں میں افراط زرکی شرح میں مارچ میں سالانہ بنیادوں پراضافہ کی شرح 7.2 فیصدرہی جوگزشتہ ماہ 7.3 فیصد اورگزشتہ سال مارچ میں 7.2 فیصد تھی۔
اعدادوشمارکے مطابق مارچ میں ملک میں قیمتوں کے حساس اشاریہ میں سالانہ بنیادوں پراضافہ کی شرح 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جوفروری میں 4.8 فیصد اورگزشتہ سال مارچ میں 2.3 فیصدتھی، مارچ میں ہول سیل پرائس انڈیکس میں اضافہ کی شرح 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جوفروری میں 1 فیصد اورگزشتہ سال مارچ میں 1.6 فیصدتھی،شہری علاقوں میں نان فوڈ نان انرجی افراط زرکی شرح مارچ میں 7.4 فیصد ریکارڈ کی گئی جو فروری میں 7.1 فیصد اورگزشتہ سال مارچ میں 8.2 فیصدتھی،دیہی علاقوں میں نان فوڈنان انرجی افراط زرکی شرح میں مارچ کے دوران اضافہ کی شرح 8.4 فیصد ریکارڈ کی گئی جوفروری میں 8.3 فیصد اورگزشتہ سال مارچ میں 10.2 فیصدتھی، شہری علاقوں میں بنیادی افراط زرمیں مارچ کے دوران سالانہ بنیادوں پر5.9 فیصد اوردیہی علاقوں میں 6.3 فیصدکااضافہ ہواہے۔
اعدادوشمارکے مطابق مارچ کے مہینہ میں اشیاء خوراک کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر3.5 فیصد،ہائوسنگ 11.5 فیصد،کلاتھنگ اینڈفٹ وئیرز5.8 فیصد،ریسٹورنٹس اینڈہوٹلز5.1 فیصد،ٹرانسپورٹ 12.5 فیصد،متفرق اشیاء 21.6 فیصد،تعلیم 9 فیصد،صحت 7.4 فیصد،اورمواصلات کے شعبہ جات میں سالانہ بنیادوں پر0.8 فیصدکااضافہ ہوا۔اس کے برعکس تفریح اورثقافت کے شعبہ میں سالانہ بنیادوں پر4.1 فیصدکی کمی ہوئی ہے۔
مارچ میں آلو کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر43.17 فیصد، انڈے 24.95 فیصد،چکن 20.34 فیصد، بیسن 18.92 فیصد، دال چنا18.64 فیصد، چینی 11.79 فیصد،دال مسور11.76 فیصد،لوبیا7.83 فیصد،ٹماٹر5.41 فیصد، تازہ سبزیاں 4.89 فیصد، پیاز9.38 فیصد،دال مونگ 3.7 فیصد،چائے 0.96 فیصد،سرسوں کاتیل 0.23 فیصد اوردرسی کتابوں کی قیمت میں 9.60 فیصدکی کمی ہوئی ہے۔اس کے برعکس آٹا کی قیمت میں 23.64 فیصد، مکھن 14.13 فیصد، گوشت 11.21 فیصد،خشک دودھ 9.50 فیصد،مصالحہ جات 9.30 فیصد،ڈرائی فروٹس 8.9 فیصد، مچھلی 8.27 فیصد،گندم سے بنی اشیاء 8.15 فیصد،گڑ7.68 فیصد،چاول 5.92 فیصد، تازہ پھل 5.91 فیصد،بیکری 5.22 فیصد،تیارخوراک 4.24 فیصد اوردودھ سے بنی اشیا کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر2.96 فیصدکااضافہ ہوا۔









