لاہور۔20اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماءکونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے والی کسی تحریک سے مذہبی قوتوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کراچی ، گوجرانوالہ کے جلسوں میں مدارس عربیہ کے طلباء، اساتذہ شریک نہیں ہوئے۔ مدارس عربیہ کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے ساتھ ہو گی ، موجودہ حکومت نے سرکاری …
ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے والی کسی تحریک سے مذہبی قوتوں کا کوئی تعلق نہیں ہے، طاہر محمود اشرفی
لاہور۔20اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماءکونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے والی کسی تحریک سے مذہبی قوتوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کراچی ، گوجرانوالہ کے جلسوں میں مدارس عربیہ کے طلباء، اساتذہ شریک نہیں ہوئے۔ مدارس عربیہ کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے ساتھ ہو گی ، موجودہ حکومت نے سرکاری سطح پر دینی تعلیم کو تسلیم کر کے مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے ساتھ کی ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کی پوری قوم اورآئین پاکستان محافظ ہے ، کسی کو ملک کے اندر مقدسات کی توہین نہیں کرنے دی جائے گی۔ لند ن بیانیہ کے ساتھ پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی نہیں ہیں، سیاسی قائدین کی انتہا پسند انہ سوچ لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ بات انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر سید ضیاءاللہ شاہ بخاری ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا شکیل الرحمن قاسمی ، قاری حفیظ اللہ ، سید اسامہ بخاری اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس عربیہ ملک کے سلامتی کے اداروں ، افواج پاکستان اور استحکام پاکستان کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہ تھے ، نہ ہیں اور نہ ہو ں گے۔ کراچی ، گوجرانوالہ کے جلسوں میں مدارس کے طلبا، علما، اساتذہ شریک نہیں تھے،مدارس کو بلاوجہ سیاست میں شریک نہ کیا جائے۔ مدارس میں تمام جماعتوں سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور مدارس کی قیادت کسی صورت بھی مدارس کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی کارڈ عوام کے پاس ہے اور عوام کسی کو بھی مذہبی کارڈ سے نہیں کھیلنے دے گی۔ وقف املاک بل پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے حتمی ہو گی۔آج مذہبی کارڈ کی بات کرنے والوں کے دور میں منکرین ختم نبوت کے حق میں قانون سازی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دور حکومت میں مدارس ، مساجد اور مذہبی طبقہ کے ساتھ جو ظلم کیے گئے وہ عوام کے سامنے ہیں،موجودہ دور حکومت میں مدارس و مساجد محفوظ ہیں۔ اصحاب رسول و اہل بیت کی توہین اور تکفیر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے ، ملک میں ہر سطح پر بین المذاہب و بین المسالک کونسلز بنائیں گے تا کہ فتنہ پیدا ہی نہ ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عرب اسلامی ممالک میں موجود پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے منظم حکمت عملی بنائی جا رہی ہے ، پاکستان کے تعلقات عرب اسلامی ممالک سے بہتر ہیں اور مزید بہتر ہوں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ المبارک کو ملک بھر میں تعلیم کی اہمیت سیرت مصطفیٰ کی روشنی میں کے موضوع پر خطبات جمعہ ہوں گے۔









