ملک کی پائیدار ترقی کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت ناگزیر ہے، راجہ پرویز اشرف

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):سابق وزیرِاعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کسی بھی ملک کی پائیدار اور متوازن ترقی کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت ناگزیر ہے، جدید دور میں وہی قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہیں جو تحقیق، جدت اور سائنسی علوم کو اپنی قومی پالیسیوں کا بنیادی ستون بناتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):سابق وزیرِاعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کسی بھی ملک کی پائیدار اور متوازن ترقی کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت ناگزیر ہے، جدید دور میں وہی قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہیں جو تحقیق، جدت اور سائنسی علوم کو اپنی قومی پالیسیوں کا بنیادی ستون بناتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ”فرنٹیئر اِن سائنس“ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی، سماجی اور ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر اور دیرپا حل جدید سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی کے فروغ اور اختراعی سوچ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔راجہ پرویز اشرف نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں، بالخصوص جامعات کو محض تدریسی مراکز کے بجائے تحقیق، اختراع اور علم کی تخلیق کے مراکز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ریسرچ کلچر کے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے اس اہم بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، فیکلٹی آف سائنس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد اور کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

راجہ پرویز اشرف نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک مضبوط ریسرچ کلچر کی حامل جامعہ بن چکی ہے جو اب قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں اور منفرد شناخت رکھتی ہے اور پاکستان کے ہائر ایجوکیشن لینڈ اسکیپ میں ایک اسٹینڈنگ یونیورسٹی کے طور پر ابھری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی بین الاقوامی کانفرنسیں نہ صرف علمی تبادلے اور تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ ملکی ترقی، پالیسی سازی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیکلٹی آف سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد نے کہا کہ یہ کانفرنس انتہائی کامیاب رہی جس میں سائنس کے مختلف شعبہ جات بشمول پائیدار مستقبل، موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تحفظ، اور فوڈ سیکیورٹی جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو اور تحقیقی تبادلہ ہوا۔

کانفرنس رپورٹ پیش کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران مجموعی طور پر 120 تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جبکہ 45 پوسٹر پریزنٹیشنز کے ذریعے جدید سائنسی تحقیق کے نتائج پیش کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ریسرچ فائنڈنگز کا تبادلہ، نالج شیئرنگ، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا اور سائنسی مکالمے کو آگے بڑھانا تھا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے ماہرین، محققین اور اسکالرز نے بھرپور شرکت کی۔

مزید خبریں