اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ منشیات کا مسئلہ امن و امان سے زیادہ ذہن سازی سے وابستہ ہے، وزارت نارکوٹکس کنٹرول منشیات کی طلب کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں مصر کے سفیر طارق محمد دہروگ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر سینیٹر اعظم خان سواتی نے …
وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول سینیٹر اعظم خان سواتی کی مصر کے سفیر سے ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ منشیات کا مسئلہ امن و امان سے زیادہ ذہن سازی سے وابستہ ہے، وزارت نارکوٹکس کنٹرول منشیات کی طلب کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں مصر کے سفیر طارق محمد دہروگ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ مصنوعی منشیات سب سے بڑا چیلنج ہے، 500 سے زائد مصنوعی منشیات ہیں جو بعض اوقات مٹھائیوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی شکل میں چھپی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر منشیات کے کنٹرول کو بہتر بنانے کے لئے وزارت بھرپور طریقے سے کوششیں کر رہی ہے تاکہ کوئی غیر قانونی منشیات پاکستان نہ آ سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کاوش میں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ملک میں منشیات کی پیداوار کو کامیابی سے کم کیا ہے اور اب یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے مصر کے سفیر کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ممالک کے ساتھ معلومات کے تبادلہ کے طریقہ کار کو بہتر بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم منشیات کے سمگلروں اور اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ملاقات کے دوران مصر کے سفیر نے دونوں ممالک کے مابین منشیات پر باہمی تعاون اور رابطے کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہا کہ منشیات کنٹرول سے متعلق پاکستان اور مصر کے مابین معاہدے پر دوبارہ غور کیا جائے گا اور وقت کی ضرورت کے مطابق اسے بہتر بنایا جائے گا۔وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہا کہ پاکستان اور مصر مشترکہ مذہب ، اقدار اور ثقافت کی گہرائیوں سے جڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہ کہ مصر کے لوگ میرے دل کے بہت قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں ہم مسلم ممالک تفریق کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں۔








