اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):یوناٹیڈ بزنس گروپ نے کہا ہے کہ منظم صنعت اور صارفین کے تحفظ کے لیے جعلی مصنوعات کی سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کوفوری روکنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین یو بی جی شہزاد علی ملک نے ایم ڈی وائٹل ٹی گروپ آف کمپنیز چوہدری غلام مجتبٰی کی قیادت میں صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا …
منظم صنعت کے تحفظ کے لیے جعلی مصنوعات کی سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت روکنے کی ضرورت ہے،چیئرمین یوبی جی شہزاد علی ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):یوناٹیڈ بزنس گروپ نے کہا ہے کہ منظم صنعت اور صارفین کے تحفظ کے لیے جعلی مصنوعات کی سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کوفوری روکنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین یو بی جی شہزاد علی ملک نے ایم ڈی وائٹل ٹی گروپ آف کمپنیز چوہدری غلام مجتبٰی کی قیادت میں صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کا ہر ملک متوازی معیشت کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متوازی معیشت کی پیمائش کا کوئی سیدھا سادہ اصول موجود نہیں تاہم مختلف جائزوں کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی متوازی معیشت ملک کی رپورٹ کردہ جی ڈی پی کے 30 سے 50 فیصد کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ غیر رپورٹ شدہ معیشت کا حجم اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب اس کا اثر رسمی شعبوں پر پڑ رہا ہے اور اس کی قیمت ٹیکس دہندگان کو چکانا پڑتی ہے، ٹیکس وصولیاں کم ہوتی ہیں،
مارکیٹ میں بگاڑ بڑھتا ہے اور منظم کاروباروں کو مقابلے کیلئے یکساں مواقع نہیں ملتے۔ وفد کے سربراہ چوہدری غلام مجتٰبی نے اس موقعہ پرکہا کہ بلیک اکانومی، سمگل شدہ اور جعلی مصنوعات اب منظم سیکٹر سے بڑی مارکیٹ کا روپ دھار رہی ہیں اور غیر قانونی تجارت میں مزید نمو سے صارفین کے حقوق بھی متاثر ہو رہے ہی
ں، علاوہ ازیں ٹیکسز جمع نہ ہونے سے حکومت ان محصولات سے بھی محروم ہو رہی ہے جو پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات کے لیے اضافی پیداوار اور اقتصادی و سماجی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔








