منی لانڈرنگ کے الزامات، ایف بی آئی نے ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں

امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)نے مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات پر امریکا میں ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) کی مالیاتی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

واشنگٹن۔9جولائی (اے پی پی):امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات پر امریکا میں ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) کی مالیاتی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق ارجنٹائن کے روزنامہ لا ناسیون کی رپورٹ میں تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ صدر کلاڈیو ٹاپیا کی سربراہی میں اے ایف اے نے امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے فنڈز کیسے منتقل کیے اور کیا اس میں کوئی مجرمانہ سرگرمی شامل تھی۔ یہ تحقیقات فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 میں مصر کے خلاف ارجنٹائن کی متنازع 2-3 سے جیت کے بعد فٹ بال ایسوسی ایشن پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران سامنے آئی ہیں، جس میں ریفرینگ کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی گئی تھ۔رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں قائم ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی جو مبینہ طور پر بیرون ملک اے ایف اے کے مالیاتی آپریشنز کو سنبھالتی ہے، بھی تحقیقات کی زد میں ہے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمپنی نے 5 امریکی مالیاتی اداروں سٹی بینک، سائنووس، بینک آف امریکا، جے پی مورگن چیس اور پی این سی بینک کے اکاؤنٹس کے ذریعے اے ایف اے کی آمدنی کے کم از کم 260 ملین امریکی ڈالر سنبھالے۔ اگرچہ فنڈز کا ایک حصہ آپریشنل اخراجات سے منسلک ہو سکتا ہے، لیکن رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ تقریباً 57 ملین امریکی ڈالر کسی ظاہری معاشی جواز کے بغیر مختلف کمپنیوں اور دیگرکو منتقل کیے گئے۔ ایف بی آئی نے تاحال اس پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی باضابطہ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ صدر کلاڈیو ٹاپیا کو رواں سال مارچ میں ٹیکس چوری کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا تھاجبکہ اے ایف اے یا ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی نے ابھی تک ان تازہ ترین الزامات پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔

مزید خبریں