ڈیجیٹل مائیکرو فنانس بینک، موبی لنک بینک نے تنوع، مساوات اور شمولیت کے میدان میں اپنے قائدانہ کردار کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ اپنے ویمن انسپائریشنل نیٹ ورک (ڈبلیو آئی این ) انکیوبیٹر پروگرام کے تحت 18 خواتین کی زیر قیادت قائم سٹارٹ اپس کی کامیابی سے گریجویشن مکمل کرادی ہے
موبی لنک بینک کا خواتین کی معاشی خود مختاری کی جانب بڑا قدم، 18 سٹارٹ اپس کی گریجویشن مکمل
اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):ڈیجیٹل مائیکرو فنانس بینک، موبی لنک بینک نے تنوع، مساوات اور شمولیت کے میدان میں اپنے قائدانہ کردار کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ اپنے ویمن انسپائریشنل نیٹ ورک (ڈبلیو آئی این ) انکیوبیٹر پروگرام کے تحت 18 خواتین کی زیر قیادت قائم سٹارٹ اپس کی کامیابی سے گریجویشن مکمل کرادی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اقدام ہے جس کا مقصد کاروباری خواتین میں معاشی صلاحیتیں پروان چڑھانے اور کاروبار میں وسعت لانے سے متعلق مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ گریجویشن تقریب میں وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر سرکاری و نجی شعبوں سے متعلق سٹیک ہولڈرز کے نمایاں افراد بھی موجود تھے۔اس پروگرام کے ذریعے شرکا کو ڈیجیٹل کاروبار، مالی آگاہی اور کاروبار کو وسعت دینے سے متعلق عملی مہارتیں سکھائی گئیں تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کاروبار قائم کر سکیں۔ تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے سٹارٹ اپس کو ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ تقریب میں گرین پلاسٹکس نے بہترین سٹارٹ اپ کا ایوارڈ حاصل کیا جسے آلو کے چھلکوں سے ری سائیکل کئے جانے کے قابل بیگز بنانے کے منفرد آئیڈیا پر 10 لاکھ روپے کی ابتدائی فنڈنگ دی گئی۔ اسی طرح ایکوجین اور ایکوفلو کو انوویشن چیلنج کا فاتح قرار دیا گیا، ان دونوں سٹارٹ اپس کو خوراک کے ضیاع کے انتظام اور پسماندہ علاقوں میں کم لاگت سے خواتین کیلئے خصوصی حفظان صحت سے متعلق متاثرکن کام پر 5 لاکھ روپے فی کس سیڈ فنڈنگ فراہم کی گئی۔ اب تک مجموعی طور پر 31 سٹارٹ اپس کی گریجویشن کے ساتھ ساتھ موبی لنک بینک خواتین کی زیر قیادت کاروبار کو فروغ دینے کے لیے انکیوبیشن، رہنمائی اور مالی و ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی میں نمایاں مثال قائم کر رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہاکہ موبی لنک بینک کے ڈبلیو آئی این انکیوبیٹر کے تحت 18 خواتین سٹارٹ اپس کی گریجویشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خواتین کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کس قدر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ ایسے اقدامات خواتین کو ضروری کاروباری اور ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک زیادہ مضبوط معیشت کی بھی بنیاد رکھتے ہیں جس میں تمام طبقات کی شمولیت ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے کہ یہ منصوبے پائیداری اور سماجی مساوات جیسے اہم مسائل پر سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ ان مواقع کو مزید وسعت دینے اور پاکستان بھر میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو جدت اور معاشی ترقی کی قیادت کا حامل بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون نہایت اہم ہے۔موبی لنک بینک کے صدر اور سی ای او حارث محمود چوہدری نے کہاکہ موبی لنک بینک محض مالیاتی اور ڈیجیٹل رسائی فراہم کرنے سے آگے بڑھ کر حقیقی اثرات مرتب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ویمن انسپائر یشنل نیٹ ورک انکیوبیٹر کاروباری خواتین کی ایک نئی نسل کو با اختیار بنا رہا ہے جو نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں بلکہ ان کی قیادت کر رہی ہیں۔ ان کی کامیابی ایک مستحکم، شمولیتی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پاکستان کی بنیاد بنے گی۔اس پروگرام میں شامل سٹارٹ اپس نے ماحولیاتی پائیداری کے فروغ اور سماجی مسائل سے نمٹنے کے لئے خصوصی مصنوعات متعارف کروائیں جن میں پلاسٹک ویسٹ، خوراک کے ضیاع اور حیض سے متعلق معلومات جیسے اہم مسائل شامل تھے۔ یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کاروباری خواتین ماحولیاتی شعور اور سماجی ذمہ داری کو جدت کے ساتھ اپنے کاروبار میں فروغ دے رہی ہیں۔ یہ تمام کاوشیں بینک کی ایس ایس جی پالیسی سے ہم آہنگ ہیں۔ موبی لنک بینک کی جانب سے ڈبلیو آئی این جیسے پروگرامز میں مسلسل سرمایہ کاری اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ بینک ایک ایسی جامع، جدید اور مستحکم معیشت کا خواہاں ہے جہاں خواتین اپنی شرکت کے ساتھ ساتھ اس تبدیلی کے عمل میں بھی قائدانہ کردار کی حامل ہوں۔









