فیصل آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی محاذوں پر مختلف چیلنجز سے نبرد آزما ہے تاہم وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک ان تمام مشکلات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہا ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا کردار مزید مستحکم …
موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی اتحادو سیاسی استحکام ناگزیرہے،پاکستان عالم اسلام میں امن کی علامت بن چکا ہے،رانا ثناء اللہ خاں

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی محاذوں پر مختلف چیلنجز سے نبرد آزما ہے تاہم وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک ان تمام مشکلات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہا ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا کردار مزید مستحکم ہوا ہے اورعالم اسلام میں امن، اتحاد اور امید کی علامت بن چکا ہے۔انہوں نےعیدالفطر کی نماز اپنے پبلک سیکریٹریٹ میں ادا کرنے کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران ایران پر ہونے والی جارحیت اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسلامی دنیا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف ایران بلکہ دیگر مسلم ممالک کے خلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔رانا ثناء اللہ خاں نے کہا کہ آج پاکستان کو ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور بحرین سمیت دیگر عرب و اسلامی ممالک کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور پاکستان عالم اسلام میں امن، اتحاد اور امید کی علامت بن کر ابھرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی اس کے کسی حصے پر قبضےکی خواہش ہے بلکہ پاکستان صرف یہ چاہتا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان اس حوالہ سے یقین دہانی کرا دے تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دوحہ معاہدہ کا احترام کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہماری پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق مکمل طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی کمین گاہوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ریاستی ادارے پرعزم ہیں اور اس ضمن میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سیاسی عمل کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے اور وزیر اعظم کی جانب سے استحکام پاکستان کے پیغام کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات نہایت نازک ہیں اور ان میں مزید بگاڑ پوری دنیا میں بحران پیدا کر سکتا ہے،پاکستان میں قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ رانا ثناء اللہ خاں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں تاخیر سپریم کورٹ کے حکم امتناع کے باعث ہوئی تاہم اب عدالتیں مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں اور قانون کے مطابق فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی بے گناہ کو سزا نہیں دی گئی، اگر کوئی شخص فیصلوں کے خلاف اپیل کرنا چاہتا ہے تو اسے مکمل قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس، توشہ خانہ اور دیگر معاملات سب کے سامنے ہیں تاہم اپیل کرنا ہر شہری کا قانونی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مسالک کے لوگ برابر ہیں اور کسی بیرونی واقعہ کو جواز بنا کر ملک کے اندر جلاؤ گھیراؤ یا املاک کو نقصان پہنچانا ہرگز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے رویوں سے اجتناب کریں جو قومی مفاد کے خلاف ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاہدوں کا پابند ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارتکاری اور مذاکرات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی مفاد پر سیاسی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے جبکہ ملکی مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔ رانا ثناء اللہ خاں نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے لیکن ملک کے استحکام کیلئے سنجیدہ سیاسی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر 2018 میں ایک مخصوص سیاسی منصوبہ شروع نہ کیا جاتا تو پاکستان آج کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔
معاشی صورتحال پرگفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی سمری مسترد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول اور گیس کے استعمال میں پچاس فیصد کمی لا کر قومی معیشت کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حالات بہتر ہوتے ہی انتخابات کا انعقاد ہوجائے گا اور حکومت اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ بھی ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر ماضی میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے آبادی میں اضافہ کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور اس حوالہ سے آئینی سطح پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کے بیٹے ملاقات کے لیے آتے ہیں تو انہیں قانون کے مطابق سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اگر وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیں گے تو اس کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملاقاتوں کے معاملہ کو بھی ایک تنازعہ بنا رکھا ہےجبکہ اس حوالہ سے ہائی کورٹ کا فیصلہ واضح ہےجس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔








