مودی حکومت کی سندھ طاس معاہدے کوسیاسی دباؤ کےلیےاستعمال کرنےکی کوشش بین الاقوامی قانون کے سامنے ناکام ہو گئی، نوابزادہ جمال ریسانی

مودی حکومت کی سندھ طاس معاہدے کوسیاسی دباؤ کےلیےاستعمال کرنےکی کوشش بین الاقوامی قانون کے سامنے ناکام ہو گئی، نوابزادہ جمال ریسانی

کوئٹہ۔ 02 ستمبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان ریسانی نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کے سامنے ناکام ہو گئی۔عالمی ثالثی عدالت کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق متفقہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی ایک اہم قانونی اور سفارتی کامیابی ہے۔

بدھ کواے پی پی سے گفتگو کرتے ہوے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان ریسانی نے کہا کہ دریائے سندھ کے پانیوں سے متعلق پاکستان کے دیرینہ حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم اور خوش آئند ہےاس سے نہ صرف پاکستان کے اصولی مؤقف کو تقویت ملی ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، ریاستی ذمہ داریوں اور عالمی قانون کی بالادستی کے اصول بھی مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان ریسانی نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق یہ فیصلہ واضح پیغام ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے لیے ہر قانونی اور سفارتی فورم پر مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرتا رہے گا۔