وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی بحران کا سب سے زیادہ بوجھ وہ طبقات اٹھا رہے ہیں جن کا عالمی کاربن اخراج میں سب سے کم حصہ ہے۔
موسمیاتی بحران کا سب سے زیادہ بوجھ کمزور طبقات اٹھا رہے ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
باکو ۔22مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی بحران کا سب سے زیادہ بوجھ وہ طبقات اٹھا رہے ہیں جن کا عالمی کاربن اخراج میں سب سے کم حصہ ہے۔ انہوں نے پاکستان میں سیلابوں اور دیگر موسمیاتی آفات کے تباہ کن اثرات، انسانی جانوں کے ضیاع، بے گھری اور معاشی نقصانات پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے یہ بات آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ورلڈ اربن فورم (ڈبلیو یو ایف 13) کے تیرہویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فورم کا موضوع ’’دنیا کو رہائش فراہم کرنا: محفوظ اور مضبوط شہر اور کمیونٹیز‘‘ تھا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کی جانب سے قومی وزارتی بیان دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی، غربت اور رہائشی ناانصافی جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز خصوصاً کمزور اور پسماندہ طبقات پر ان کے اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مزاحمت پر مبنی رہائش دراصل انصاف کا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر مشترکہ آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے ’’این ڈی سی 3.0: موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے شہری قوانین اور کثیر سطحی حکمرانی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے بھی خطاب کیا، جہاں مؤثر پالیسی سازی، شہری نظم و نسق اور موسمیاتی مزاحمت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے ’’موسمیات اور رہائش کا باہمی تعلق‘‘ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی مکالمے میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ کسی خاندان کو غربت سے نکلنے میں دو نسلیں لگ جاتی ہیں، مگر ایک قدرتی آفت انہیں دوبارہ محرومی کے دائرے میں دھکیل دیتی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ سستی رہائش کو صرف فلاحی سہولت نہیں بلکہ بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔فورم کے موقع پر وفاقی وزیر نے آذربائیجان کے وزیر توانائی پرویز شاہبازوف سے ملاقات بھی کی، جس میں توانائی، موسمیاتی مزاحمت، پائیدار ترقی اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔








