موسمیاتی چیلنجز اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈاکٹر غلام سرور

فیصل آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی):ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) پنجاب ڈاکٹر غلام سرور نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور مقامی ہائبرڈ اقسام کی کاشت کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے عمل میں جدت لانے کے …

فیصل آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی):ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) پنجاب ڈاکٹر غلام سرور نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور مقامی ہائبرڈ اقسام کی کاشت کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے عمل میں جدت لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں اور سبزیوں کی اعلیٰ پیداواری ہائبرڈ اقسام متعارف کروانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں شعبہ سبزیات کے ”سالانہ خریف ریسرچ پروگرام 2026“ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر شعبہ سبزیات ڈاکٹر محمد اقبال، ڈائریکٹر زرعی اطلاعات فیصل آباد ڈاکٹر آصف علی، ڈائریکٹر شعبہ ایگرانومی ڈاکٹر نوید اختر صدیقی، ترقی پسند کاشتکار چوہدری مقصود احمد، نجی سیڈ کمپنی کے سی ای او، جلیل خان کاکڑ،ماہرین سبزیات غضنفر حماد، عامر لطیف, ثوبیہ اعجاز، کاشف ندیم، محمد امین، ڈاکٹروسیم،ڈاکٹر کاشف رشید،ڈاکٹر عاطف، اقصی طاہر، اطلس امین اور زرعی سائنسدانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ڈاکٹر غلام سرور نے مزید کہا کہ پنجاب میں موسم خریف کی اہم سبزیوں جن میں کھیرا، مرچ، شملہ مرچ، گھیا کدو، حلوہ کدو، بھنڈی توری، گھیا توری، کریلہ، خربوزہ، تربوز اور ٹینڈا شامل ہیں کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر شعبہ سبزیات ڈاکٹر محمد اقبال نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سبزیوں کی کاشت دیگر روایتی فصلوں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ہے اور کم رقبے سے زیادہ پیداوار اور آمدن کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ادارہ سبزیات اپنے قیام سے اب تک 80 سے زائد بہترین اقسام متعارف کروا چکا ہے جو کاشتکاروں میں بے حد مقبول ہیں، جبکہ معیاری بیج کی بروقت فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مٹر جیسی سبزیوں میں لحمیات (پروٹین) کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو انہیں گوشت کا بہترین اور سستا نعم البدل بناتی ہے۔ دورانِ اجلاس ذرعی غذائی ماہرین نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں سبزیوں کا استعمال عالمی معیار سے تشویشناک حد تک کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سبزیوں کا استعمال 300 سے 350 گرام فی کس یومیہ ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح محض 120 سے 150 گرام ہے، جو مختلف طبی مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ماہرین کے مطابق سبزیوں میں وٹامن اے، سی، تھایامین، فولک ایسڈ، رائبو فلیون، کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، مینگانیز اور غذائی ریشہ (فائبر) کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے، اور ان کا باقاعدہ استعمال پھیپھڑوں کے کینسر، ذیابیطس، ہیپاٹائٹس اور امراضِ قلب کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھانے اور جسم سے مضر مادوں کے اخراج میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر تفصیلی غور و خوض اور چند ناگزیر تکنیکی ترامیم کے بعد شعبہ سبزیات کے ”سالانہ خریف ریسرچ پروگرام 2026“ کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔

 

مزید خبریں