مونٹریال کی آئس ڈانس اکیڈمی اولمپک چیمپئنز کی نرسری بن گئی،حریفوں کی بڑی تعداد یہیں سے تربیت یافتہ ہے

مونٹریال۔27جنوری (اے پی پی):اٹلی میں آئندہ ماہ شیڈول سرمائی اولمپکس میں مختلف ممالک کے آئس ڈانسرز تمغوں کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے ان میں سے بڑی تعداد نے تیاری ایک ہی چھت تلے کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق دنیا کے بہترین آئس ڈانس کھلاڑیوں کی بڑی تعداد مونٹریال میں قائم معروف تربیتی مرکز آئس اکیڈمی آف مونٹریال (آئی اے ایم ) کا رخ کر چکی …

مونٹریال۔27جنوری (اے پی پی):اٹلی میں آئندہ ماہ شیڈول سرمائی اولمپکس میں مختلف ممالک کے آئس ڈانسرز تمغوں کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے ان میں سے بڑی تعداد نے تیاری ایک ہی چھت تلے کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق دنیا کے بہترین آئس ڈانس کھلاڑیوں کی بڑی تعداد مونٹریال میں قائم معروف تربیتی مرکز آئس اکیڈمی آف مونٹریال (آئی اے ایم ) کا رخ کر چکی ہے۔

برطانوی آئس ڈانسر لیلا فیئر جو 10سال قبل مونٹریال منتقل ہوئیں، نے کہا کہ وہ یہاں کسی کو جانے بغیر آئی تھیں اور جو کچھ بھی سیکھا اسی اکیڈمی کے کوچز اور ماحول کی بدولت سیکھا۔ لیوس گبسن کے ساتھ انہوں نے جون میں ورلڈ چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا جس سے برطانیہ کا آئس ڈانس میں 40 سالہ تمغوں کا خشک سالی کا سلسلہ ختم ہوا۔ اس سے قبل برطانیہ نے 1984 کے سرائیوو سرمائی اولمپکس میں جین ٹورول اور کرسٹوفر ڈین کے ذریعے تاریخی طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

آئس اکیڈمی آف مونٹریال شہر کے ایک سادہ سے سپورٹس کمپلیکس گیڈبوئس میں قائم ہے جو کبھی محنت کش طبقے کا علاقہ تھا۔ یہاں اس وقت اتنے زیادہ اعلیٰ درجے کے آئس ڈانسرز تربیت حاصل کر رہے ہیں کہ ان کے لیے آئس ٹائم کا شیڈول بنانا ایک پیچیدہ مرحلہ بن چکا ہے۔اٹلی کے شہر میلان کورٹینا 2026 سرمائی اولمپکس میں صرف چند ہفتے باقی ہیں اور حالیہ دنوں میں تربیت کا آغاز فجر کے وقت ہی ہو گیا جہاں دن بھر متعدد ممکنہ اولمپینز نے آئس پر پریکٹس کی۔اکیڈمی کے سربراہ کوچ اور شریک بانی رومان ہیگوناور نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی اکیڈمی سے تقریباً ایک درجن جوڑے 2026 کے اولمپکس میں حصہ لے سکتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ اعداد و شمار نہ صرف سکیٹنگ بلکہ مجموعی طور پر کھیلوں کی دنیا میں بھی غیر معمولی ہیں۔ہیگوناور جو فرانس کی قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں اور گزشتہ تین دہائیوں سے کوچنگ سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ تینوں اولمپک چیمپئنز نے مونٹریال میں ہی تربیت حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ اولمپکس میں اکیڈمی کے کھلاڑیوں کی تعداد بعض ممالک کے مجموعی دستے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔یہاں تک کہ بعض بین الاقوامی مقابلوں میں ایسا بھی ہو چکا ہے کہ پورا پوڈیم انہی کھلاڑیوں پر مشتمل تھا جنہوں نے آئس اکیڈمی آف مونٹریال میں تربیت حاصل کی۔\932

مزید خبریں