ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان مون سون کے دوران ہونے والی وافر بارشوں سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھا کر اپنے آبی تحفظ کو نمایاں طور پر مضبوط بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بہتر نظام اور ذخیرہ آب کے انفراسٹرکچر کی توسیع سے تقریباً 83 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) موسمی بارش کے پانی کو مفید استعمال کے لیے ذخیرہ …
مون سون کے بارش کے پانی سے پاکستان 83 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے،ماہرین

مزید خبریں
لاہور۔21جولائی (اے پی پی):ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان مون سون کے دوران ہونے والی وافر بارشوں سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھا کر اپنے آبی تحفظ کو نمایاں طور پر مضبوط بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بہتر نظام اور ذخیرہ آب کے انفراسٹرکچر کی توسیع سے تقریباً 83 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) موسمی بارش کے پانی کو مفید استعمال کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے آبپاشی تحقیقاتی ادارہ (آئی آر آئی) پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 111 ملین ایکڑ فٹ بارش ہوتی ہے، جس میں سے تقریباً 83 ملین ایکڑ فٹ بارش مون سون کے موسم میں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تربیلا، منگلا اور چشمہ سمیت بڑے آبی ذخائر میں تقریباً 14 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اضافی ذخیرہ گاہوں اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کے ذریعے پانی کی دستیابی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے کہا کہ پاکستان مرکزی اور مقامی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے کے نظام اپنا کر آبی وسائل میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ری چارج بیسنز، ری چارج تالاب، ری چارج کنویں، چیک ڈیمز، فلڈ اسپریڈنگ بیسنز اور موزوں آبی ذخائر میں انجیکشن ویلز مون سون کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیرزمین پانی کی سطح بحال کرنے کے مؤثر ترین طریقوں میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بڑے ڈیم طویل مدتی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اہم ہیں، تاہم پاکستان کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم، پہاڑی ندی نالوں پر ڈیم اور ڈیلے ایکشن ڈیمز بھی تعمیر کرنے چاہییں تاکہ وہ بارش کا پانی محفوظ کیا جا سکے جو بصورت دیگر ضائع ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر سیال کے مطابق لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے شہری علاقوں میں عمارتوں کی چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے، زیرزمین ذخیرہ ٹینک بنانے اور ری چارج پٹس قائم کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے زیرزمین پانی کے ذخائر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیز رفتار شہری ترقی کے باعث سڑکوں اور کنکریٹ سے ڈھکے علاقوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بارش کا پانی قدرتی طور پر زمین میں جذب ہونے کے بجائے فوری طور پر برساتی نالوں میں بہہ جاتا ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو وسعت دینے سے نہ صرف زیرزمین پانی کے ذخائر بہتر ہوں گے بلکہ شہری علاقوں میں سیلاب کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔ماہرین نے پانی کے تحفظ کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے روایتی آبی انفراسٹرکچر کے ساتھ قدرتی ماحولیاتی حل اپنانے کی بھی سفارش کی ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر واٹر ریسورسز سہیل علی نقوی نے کہا کہ انجینئرنگ پر مبنی ڈیموں کے ساتھ ساتھ قدرتی سیلابی میدانوں میں سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کی بھی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے، جس سے بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے، پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے اور پن بجلی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی، گھریلو اور تجارتی مقاصد کے لیے سالانہ 55 ملین ایکڑ فٹ سے زائد زیرزمین پانی نکالتا ہے، جس کے باعث زیر زمین آبی ذخائر کو مصنوعی طریقے سے دوبارہ بھرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔سہیل علی نقوی نے کہا کہ سیلابی پانی کو قدرتی سیلابی میدانوں کی جانب موڑ کر زمین میں جذب ہونے دیا جا سکتا ہے، جس سے زیرزمین آبی ذخائر مضبوط ہوں گے اور مستقبل میں پانی کی دستیابی بہتر ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ منیجڈ ایکویفر ری چارج (ایم اے آر) کی مؤثر ترین تکنیکوں میں مصنوعی ری چارج کنوؤں کا استعمال شامل ہے۔
یہ ٹیکنالوجی پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) نے متعارف کرائی، جبکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان سمیت متعدد ادارے پنجاب کے مختلف شہروں میں اس کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔نقوی نے کہا کہ دستیاب بارش کے پانی، سطحی پانی اور زیرزمین پانی کے زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق مون سون کا موسم پاکستان کے لیے زرعی اور دیگر شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آبی وسائل بڑھانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحد پار آبی وسائل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔







