مویشیوں میں تھیلازیا یا آئی ورم انفیکشن خاموش لیکن نقصان دہ ہے ، یہ انفیکشن گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں کی آنکھوں کو متاثر کرتی ہے۔
مویشیوں میں تھیلازیا یا آئی ورم انفیکشن خاموش لیکن نقصان دہ ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک سمبڑیال
سیالکوٹ ۔ 10 جون (اے پی پی):مویشیوں میں تھیلازیا یا آئی ورم انفیکشن خاموش لیکن نقصان دہ ہے ، یہ انفیکشن گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں کی آنکھوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار بدھ کو ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سمبڑیال ڈاکٹر محمد افضل نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مویشی پال حضرات عموما گل گھوٹو، لمپی سکن، منہ کھر، ماسٹائٹس اور نظامِ انہضام کی بیماریوں پر توجہ دیتے ہیں، لیکن آنکھوں کی بیماریوں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ آنکھ جانور کے جسم کا نہایت حساس عضو ہے اور اس کی صحت جانور کی خوراک لینے، حرکت کرنے، آرام کرنے اور مجموعی پیداوار پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ہی ایک اہم لیکن نسبتا کم معروف بیماری تھیلازیا یا آئی ورم انفیکشن ہے جو گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں کی آنکھوں کو متاثر کرتی ہے، اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری شدید سوزش، قرنیہ کے نقصان، بینائی کی کمزوری اور بعض اوقات مستقل اندھے پن کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھیلازیا ایک باریک، سفید رنگ کا گول کیڑا ہے جو جانور کی آنکھ میں موجود کونجیکٹیوا پلکوں کے اندرونی حصے اور آنسوں کی نالیوں میں رہائش اختیار کرتا ہے ،یہ پرجیوی آنکھ کی رطوبتوں سے خوراک حاصل کرتا ہے اور مسلسل حرکت کرتے ہوئے آنکھ میں جلن اور سوزش پیدا کرتا ہے، متاثرہ جانور شدید تکلیف محسوس کرتا ہے جس کا اثر اس کی صحت اور پیداوار دونوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہتھیلازیا کے پھیلائو میں مکھیوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے، چہرے پر بیٹھنے والی مخصوص مکھیاں متاثرہ جانور کی آنکھوں سے رطوبت حاصل کرتے وقت تھیلازیا کے لاروا اپنے ساتھ لے لیتی ہیں، بعد ازاں یہی مکھیاں جب کسی دوسرے صحت مند جانور کی آنکھ پر بیٹھتی ہیں تو لاروا منتقل کر دیتی ہیں، جو بعد میں بالغ کیڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، اسی وجہ سے گرمیوں اور برسات کے موسم میں، جب مکھیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، اس بیماری کے کیسز بھی زیادہ سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی وجہ سے آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا ہے، آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور سوزش، پلکوں کی سوجن، روشنی سے حساسیت، آنکھوں کو بار بار بند رکھنا، سر کو بار بار جھٹکنا، آنکھ کو دیوار یا باڑے سے رگڑنا، قرنیہ کا سفید یا دھندلا ہونا، آنکھ میں زخم یا السر بن جانا، بینائی کا متاثر ہونا، ابتدائی مراحل میں یہ علامات معمولی محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بیماری سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تھیلازیا صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے، متاثرہ جانور کم خوراک کھاتا ہے، ذہنی دبائو اور تکلیف کا شکار رہتا ہے، دودھ کی پیداوار میں کمی آتی ہے، جسمانی وزن میں کمی واقع ہو سکتی ہے، افزائشی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، علاج اور دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، یہ تمام عوامل فارمر کی آمدنی اور فارم کی مجموعی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
علاج کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ تھیلازیا کی تشخیص ایک مستند ویٹرنری ڈاکٹر کے ذریعے آنکھوں کے مکمل معائنے سے کی جاتی ہے،علاج میں عام طور پر آنکھ سے کیڑوں کا احتیاط سے اخراج مناسب اینٹی پیراسائٹک ادویات، اینٹی بائیوٹک اور اینٹی انفلامیٹری علاج قرنیہ اور آنکھ کی حفاظت کے لیے معاون ادویات شامل ہو سکتی ہیں، بروقت علاج سے اکثر جانور مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں اور بینائی محفوظ رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تھیلازیا کے موثر کنٹرول کے لیے مکھیوں کا خاتمہ اور فارم بائیو سکیورٹی انتہائی ضروری ہے، فارم کی صفائی کا خاص خیال رکھیں گوبر اور نامیاتی فضلہ جمع نہ ہونے دیں مکھیوں کے افزائش مراکز ختم کریں، فلائی کنٹرول پروگرام نافذ کریں جانوروں کی آنکھوں کا باقاعدہ معائنہ کریں، بیمار جانوروں کی فوری تشخیص کروائیں، ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے ڈی ورمنگ پروگرام اپنائیں، فارم پر مجموعی بائیو سکیورٹی کو بہتر بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ جانوروں کی آنکھوں سے متعلق بیماریوں کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں، آنکھوں سے پانی بہنا، سرخی، سوجن یا جلن جیسی علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں، صحت مند مویشی ہی کامیاب فارمنگ، بہتر پیداوار اور مضبوط دیہی معیشت کی بنیاد ہیں، بیماریوں کی بروقت تشخیص، موثر علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے نہ صرف جانوروں کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ فارمرز کو معاشی نقصانات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔









