اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نےکہا ہے کہ مینگرووز کا تحفظ ساحلی معیشت اور ماحولیاتی بقا کے لیے ناگزیر ہے،’’ڈیلٹا بلیو کاربن‘‘ منصوبہ عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بن چکا ہے،سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز سے لاکھوں کاربن کریڈٹس حاصل کیے جا رہے ہیں، مینگرووز عام درختوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ کاربن جذب کرتے ہیں۔ہفتہ کو عالمی یومِ مینگرووز …
مینگرووز کا تحفظ ساحلی معیشت اور ماحولیاتی بقا کے لیے ناگزیر ہے،’’ڈیلٹا بلیو کاربن‘‘ منصوبہ عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بن چکا ہے،جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نےکہا ہے کہ مینگرووز کا تحفظ ساحلی معیشت اور ماحولیاتی بقا کے لیے ناگزیر ہے،’’ڈیلٹا بلیو کاربن‘‘ منصوبہ عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بن چکا ہے،سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز سے لاکھوں کاربن کریڈٹس حاصل کیے جا رہے ہیں،
مینگرووز عام درختوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ کاربن جذب کرتے ہیں۔ہفتہ کو عالمی یومِ مینگرووز پر اپنے خصوصی پیغام میں جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مینگرووز کی بقا کے لیے حکومت مسلسل عملی اقدامات کر رہی ہے، بلوچستان اور سندھ میں مینگرووز کی بحالی کے منصوبے کامیابی سے جاری ہیں،ساحلی کٹاؤ اور سیلاب سے بچاؤ میں مینگرووز اہم قدرتی ڈھال ہیں۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بڑے مینگرووز اگانے والے ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے،مینگرووز مچھلیوں کا مسکن اور حیاتیاتی تنوع کی علامت ہیں۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ماہی گیری، سیاحت اور قدرتی وسائل کا تحفظ مینگرووز سے جڑا ہے،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مینگرووز کا پھیلاؤ ناگزیر ہے۔








