میکسیکو میں منشیات مافیا کے خلاف امریکی فوج کے استعمال کی تجویز صدر کلاڈیا شین بام نے مسترد کر دی

اسلام آبادسٹی ۔16جنوری (اے پی پی):امریکا کی طرف سے میکسیکو پر یہ دباؤ بڑھا دیا گیا ہے کہ میکسیکو امریکی فوج کو اپنے ہاں منشیات سے متعلق مافیاز کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کے مراکز تباہ کرنے کی اجازت دے۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ان منشیات سے متعلق مافیاز اور ان کی منشیات سازی کے لیے قائم لیبارٹریز کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ …

اسلام آبادسٹی ۔16جنوری (اے پی پی):امریکا کی طرف سے میکسیکو پر یہ دباؤ بڑھا دیا گیا ہے کہ میکسیکو امریکی فوج کو اپنے ہاں منشیات سے متعلق مافیاز کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کے مراکز تباہ کرنے کی اجازت دے۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ان منشیات سے متعلق مافیاز اور ان کی منشیات سازی کے لیے قائم لیبارٹریز کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے میکسیکو کی حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ امریکی افواج کو ایسا کرنے کی اجازت دے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ اجازت امریکی فوج کے علاوہ سی آئی اے کے افسران کے لیے بھی مانگی گئی ہے کہ وہ میکسیکو کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر میکسیکو کے اندر ایسی کارروائیاں کریں اور منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریز کو منہدم کر دیں۔اس رپورٹ کے حوالے سے امریکا کے مختلف حکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم ان کا نام نہیں دیا گیا۔تاہم میکسیکو کے صدر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی بات چیت اچھی رہی۔ جس میں سکیورٹی اور منشیات کی نقل و حمل پر بات چیت ہوئی۔

امریکا کی طرف سے میکسیکو میں اس نوعیت کی کارروائی کرنے کی یہ خواہش وینزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد کی گئی ہے جو 3 جنوری کو کر کے امریکا نے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو وینزویلا کے دارالحکومت سے اٹھا لیا تھا۔میکسیکو کے صدر کلاڈیا شین بام اس سے پہلے بھی صدر ٹرمپ کی فوجی کارروائی کرنے کی خواہش کو مسترد کر چکے ہیں۔