میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ،چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت منگل کو ایک اجلاس نیب ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیب کے پراسیکوشن، انوسٹی گیشن اور ایچ آرایم ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لےا گےا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نہ صرف نیب کی اولین ترجیح ہے بلکہ نیب کا …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت منگل کو ایک اجلاس نیب ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیب کے پراسیکوشن، انوسٹی گیشن اور ایچ آرایم ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لےا گےا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نہ صرف نیب کی اولین ترجیح ہے بلکہ نیب کا ایمان۔کرپشن فری پاکستان ہے۔ ہم ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ نیب قوم کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک جانے والے بدعنوان عناصر کو تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے وطن واپس لا کر ان سے قوم کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرنے کےلئے انتہائی سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ دیانتداری، ایمانداری، محنت ، لگن،میرٹ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق اپنی قومی ذمہ دارےاں سرانجام دیں۔ نیب کو ہم سب نے مل کر ملک کا معتبر ادارہ بنا دےا ہے جو کسی دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق ملک بھر میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ نیب پر اعتماد کی وجہ سے ہی نیب کو گزشتہ 13 ماہ کے دوران 54344 شکاےات موصول ہوئیں جن کا قانون کے مطابق مکمل جائزہ لےا گےا اور مکمل سکروٹنی کے بعد 2125 شکاےات کی جانچ پڑتال، 1059 انکوائرےاں اور 302 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی جبکہ 590 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف معززاحتساب عدالتوںمیں دائر کئے گئے جو کہ اس وقت زیر سماعت ہیں۔ نیب نے 569 افراد کو گرفتار کرکے گزشتہ 13 ماہ میںان سے قوم کے لوٹے گئے تقریباََ 3919.011 ملین روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے۔ نیب کی 2018 میں سزا دلوانے کی شرح 70.8 فیصد رہی جوکہ پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے کسی دوسرے ادارے سے بہتر اور مثالی ہے۔ نیب کے اس وقت معزز احتساب عدالتوں میں 1219 بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیںجن کی تقریباً مالیت 895 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مقدمات پوری تےاری، قانون کے مطابق ٹھوس شواہد کی بنےاد پر معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ تمام مقدمات منطقی انجام تک پہنچانے اور قوم کی لوٹی گئی رقم برآمد کرنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹےوں سے غریب لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی واپس دلانے کےلئے کوشاںہیں۔ غیرقانونی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں نے لوگوں کو نہ پلاٹ دیئے اور نہ ہی رقوم واپس کیں جس کے باعث متاثرین در بدر کی ٹھوکریں کھار ہے ہیں۔

Leave a Reply