نئے صوبوں کا فیصلہ سیاسی مفادات نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا فیصلہ سیاسی مفادات یا جذبات کے بجائے عوام کی مرضی اور خواہش کے مطابق ہونا چاہیے، محسن نقوی

لاہور۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے وسیع و آئین کے مطابق بحث پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ سیاسی مفادات یا جذبات کے بجائے عوام کی مرضی اور خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے ہفتہ کو یہاں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) میں منعقدہ نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورننس کو بہتر بنانے، متوازن ترقی یقینی بنانے اور تعلیم، صحت، صاف پانی و انصاف سمیت بنیادی سہولیات تک عوام کی بہتر رسائی کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو فوری سیاسی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے اور سیاسی جماعتوں و عوام کو جذباتی ردعمل سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جو کل یا پرسوں ہونے جا رہا ہو، اگر عوام سمجھتے ہیں کہ ان کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں اور وہ اس کی حمایت کرتے ہیں تو آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عہدوں پر بیٹھے افراد کی مرضی سے زیادہ اہم عوام کی مرضی ہے، کوئی حکومت، سیاسی جماعت یا فرد عوام پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کر سکتا،نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو عوام کے سامنے رکھنے سے پہلے انہیں اس کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کیا جانا چاہیے، جس کے بعد فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے۔اپنی جانب سے پہلے دی گئی ری سیٹ کی کال کا حوالہ دیتے ہوئے محسن نقوی نے واضح کیا کہ وہ موجودہ انتظامی نظام کو ختم کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ ایسے نظام کی درست سمت میں اصلاح کی بات کر رہے ہیں جو گزشتہ 79 برس کے دوران موثر انداز میں نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ متوازن ترقی یقینی بنانے کے لیے کافی ہے؟ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کی انتظامی و معاشی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختیارات کو بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے نچلی سطح تک منتقل کیا جانا چاہیے، ہر شہری کو تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی اور انصاف کی سہولت حاصل ہونی چاہیے تاہم تسلسل کے ساتھ آنے والی حکومتیں ہر شہری کو یہ بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اب دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور انتہائی مرکزیت پر مبنی نظام کے ذریعے موثر حکمرانی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع اور تحصیلیں تو باقاعدگی سے قائم کی جاتی ہیں لیکن اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے۔انہوں نے حکمرانی کے مسائل کا موازنہ گھروں اور کاروبار کے انتظام سے کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کے بہتر استعمال کے لیے نظام کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے، اسی طرح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے بھی اس نوعیت کی بحث ضروری ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ حکومتیں اور پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، نئے بجٹ اور منصوبے پیش کیے جاتے ہیں لیکن آخر میں ہماری کارکردگی اور عوام تک سہولیات کی فراہمی پر سوالیہ نشان موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے رقبے اور آبادی کے حجم کے باعث مرکزی دفاتر میں بیٹھے چند افراد کے لیے تمام انتظامی امور موثر انداز میں چلانا مشکل ہے۔ انہوں نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ پنجاب کے تمام اضلاع کا دورہ نہیں کر سکے، حتیٰ کہ ایک بیوروکریٹ کے لیے بھی اتنی بڑی آبادی کی ضروریات کو عملی طور پر پورا کرنا ممکن نہیں۔وفاقی وزیر نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی بھی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا اپنا کوئی صوبائی بجٹ نہیں اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) موجودہ طریقہ کار کے تحت شہر کا انتظام چلا رہی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے لیے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ موجودہ این ایف سی فارمولے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے ذریعے وسائل میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کی ترغیب پیدا ہوتی ہے، جو مستقبل میں ملک کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے تعلیم کے شعبے میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ بااختیار میئرز اور بلدیاتی حکومتیں نچلی سطح پر عوامی مسائل زیادہ موثر انداز میں حل کر سکتی ہیں۔انہوں نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی، لندن کے میئر صادق خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی میئر کی حیثیت سے سابقہ خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں کو چلانے کا تجربہ قومی حکمرانی کے لیے بھی قیمتی اسباق فراہم کر سکتا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی وکالت جاری رکھیں گے اور اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے اس کے جو بھی نتائج ہوں۔وفاقی وزیر نے قائداعظم محمد علی جناح کی صوبائیت اور گروہی تقسیم کے خلاف دی گئی تنبیہات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی شناخت اور پاکستان سے وفاداری کو لسانی، قبائلی اور علاقائی وابستگیوں سے بالاتر ہونا چاہیے اور ملکی وحدت و یکجہتی پر مبنی رہنا چاہیے۔

مزید خبریں