نئے نوٹوں کو گردش میں لانے کیلئے تقریبا ایک سال درکار ہوگا، 5 ہزار روپے کے ایک نوٹ کی طباعت پر تقریبا 14 روپے لاگت آتی ہے، سٹیٹ بینک کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ

نئے نوٹوں کو گردش میں لانے کیلئے تقریبا ایک سال درکار ہوگا، 5 ہزار روپے کے ایک نوٹ کی طباعت پر تقریبا 14 روپے لاگت آتی ہے، سٹیٹ بینک کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا گیا ہے کہ نئے نوٹوں کو گردش میں لانے کے لیے تقریبا ایک سال درکار ہوگا، 5 ہزار روپے کے ایک نوٹ کی طباعت پر تقریبا 14 روپے لاگت آتی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر محمد عبدالقادر، سینیٹر محمد طلحہ محمود، سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر شاہزیب درانی اور سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے شرکت کی۔اجلاس میں کرنسی کی سلامتی وتحفظ، پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (پی آر آئی)، ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور کمپنیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران چیئرمین نے 5 ہزار روپے مالیت کے تین کرنسی نوٹوں کا معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ انہوں نے یہ تقریبا دو سال قبل تصدیق کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھجوائے تھے تاہم سٹیٹ بینک کی جانب سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ 5 ہزار روپے کا نوٹ 2005ء میں متعارف کرایا گیا تھا اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی وجدت کے باعث جعلی نوٹ تیار کرنا آسان ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹ کے ڈیزائن کے لیے پیپرا قواعد کے تحت ٹینڈر جاری کیا گیا تھا۔ اس عمل میں چار بولی دہندگان نے حصہ لیا اور کنٹریکٹ ایک کنسلٹنٹ فرم کو دیا گیا جو اس وقت مطلوبہ تبدیلیاں شامل کر رہی ہے ، اس ڈیزائن کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔ چیئرمین نے سٹیٹ بینک کو بولی کے عمل کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور جعلی کرنسی کے گردش میں ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے نوٹوں کو گردش میں لانے کے لیے تقریبا ایک سال درکار ہوگا جبکہ 5 ہزار روپے کے ایک نوٹ کی طباعت پر تقریبا 14 روپے لاگت آتی ہے۔سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے کرنسی ڈیزائن کی منظوری کے عمل کوسہل و ہموار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معمولی ترامیم کے لیے بار بار فائلیں واپس بھیجنے اور غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔گورنر سٹیٹ بینک نے پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ابتدا میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی سہولت کے لیے بینکوں کو سبسڈی فراہم کی تھی۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اس مد میں 120 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی جس میں گزشتہ سال کمی کر دی گئی تھی، مالیاتی مشکلات کے باعث حکومت موجودہ بجٹ کے تحت اس سبسڈی کو جاری رکھنے سے قاصر رہی، چنانچہ بینکوں نے ترسیلات زر کی سہولت کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے متعلقہ اخراجات اپنے وسائل سے برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے اس اقدام کو سراہا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں منتخب بینکوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ ترسیلات زر کے شعبے میں اپنی کارکردگی اور کردار کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دیں۔اجلاس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور ڈپازٹس کے تحفظ سے متعلق ایف ای سرکلر 1999 کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت غیر ملکی سرمایہ کاروں کی رقوم کے تحفظ کے لیے متعلقہ بینکوں کو ہدایات جاری کر دی گئی تھیں اور سٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق اس نوعیت کا کوئی معاملہ بینک کے پاس زیر التواء نہیں ہے۔

کمیٹی نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض غیر ملکی سرمایہ کاروں کے معاملات اب بھی زیر التواء ہیں اور ایسے تمام معاملات اگر کوئی ہوں، کی تفصیلی فہرست طلب کی جس میں ان کی موجودہ صورتحال اور زیر التواء رہنے کی وجوہات بھی شامل ہوں۔سینیٹر طلحہ محمود نے پاکستان میں کام کرنے والی بعض کمپنیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جو نقصانات ظاہر کرنے کے باوجود مبینہ طور پر دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتی ہیں اور اپنے مالیاتی حالات کے بارے میں سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز کو گمراہ کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض کمپنیاں بالآخر دیوالیہ ہو سکتی ہیں یا ملک چھوڑ سکتی ہیں جس کے نتیجے میں شیئر ہولڈرز اور عام عوام کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر زور دیا کہ ایسی کمپنیوں کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے اور عوام کی سرمایہ کاری اور ان کی محنت سے کمائی گئی رقم کے تحفظ کے لیے دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں کے خلاف بروقت کارروائی کی جائے۔