نئے ہجری سال کے آغاز پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں برداشت، محبت، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا ہجری سال 1448ھ کے آغاز پر پیغام
نئے ہجری سال کے آغاز پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں برداشت، محبت، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا ہجری سال 1448ھ کے آغاز پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان سمیت عالم اسلام کو نئے ہجری سال 1448ھ کے آغاز پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہجری سال کا آغاز ہمیں تاریخِ اسلام کے اس عظیم اور فیصلہ کن واقعے کی یاد دلاتا ہے جب نبی کریم ﷺ اور آپﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا، دین حق کی سربلندی اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہجرت مدینہ کا عظیم سفر اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ قربانی، صبر، استقامت، اخوت، ایثار اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا لازوال درس دیتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہجرت نبوی ﷺ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ قومیں صرف مادی وسائل سے نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، عدل، دیانت، اتحاد اور مشترکہ مقاصد سے ترقی کرتی ہیں۔ مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی ریاست نے رواداری، قانون کی حکمرانی، انسانی مساوات، باہمی احترام اور فلاح عامہ کی ایسی روشن مثال قائم کی جو آج بھی دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے ہجری سال کے آغاز پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں برداشت، محبت، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے، فرقہ واریت، انتہا پسندی، نفرت اور تعصب سے اجتناب کریں گے اور پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ محرم الحرام کا مبارک مہینہ ہمیں نواسہ رسولﷺ، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانیوں اور معرکہ کربلا کے آفاقی اسباق کی یاد بھی دلاتا ہے۔ امام عالی مقام کا اسوہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے ذاتی عمل کو اجتماعی شعور کے سانچے میں ڈھالیں اور وطن عزیز کو درپیش موجودہ معاشی و معاشرتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر متزلزل یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ کربلا کا لازوال جذبہ ہمیں داخلی خلفشار اور مایوسی سے دور رکھ کر باہمی ہم آہنگی کا وہ درس دیتا ہے جس پر عمل کر کے ہمارا ملک ہر قسم کی آزمائش سے سرخرو ہوسکتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بےچینی اور بخار میں اس کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں انفرادی و اجتماعی طور پر باہمی محبت، اخوت، ہمدردی، ایثار اور تعاون کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔ اختلافات، تعصبات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک جسم کی مانند متحد ہو کر ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، کمزوروں کی مدد کریں گے اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کریں گے تو پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بن سکے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے قول و عمل سے محبت، رحم دلی اور یکجہتی کو فروغ دیں گے ۔ آئیے نئے ہجری سال کا استقبال اس عزم کے ساتھ کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں گے، قانون کی پاسداری کریں گے، قومی یکجہتی کو مضبوط بنائیں گے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نئے ہجری سال کو پاکستان، عالم اسلام اور پوری انسانیت کے لیے امن، برکت، رحمت اور خوشحالی کا سال بنائے۔ آمین






