اسحاق ڈار اور امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کی ملاقات، پاکستان امریکا تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات،خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

واشنگٹن۔30مئی (اے پی پی):نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے امریکی وزیرِ خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو سے ملاقات کی۔جمعہ کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق گرمجوش اور خوشگوار ماحول میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان-امریکہ دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت کو سراہا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے وسیع البنیاد امور پر تبادلہ خیال کیا اور اقتصادی و تجارتی تعلقات، ثقافتی تعاون کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔​

علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن اور امن کے لیے ان کے عزم کی تعریف کی، جس میں امریکہ-ایران جنگ بندی کے لیے ان کی حمایت اور ’’اسلام آباد امن مذاکرات‘‘ کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیجنا شامل ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو​ روبیو نے پاکستان کی سفارتی اور مصالحتی کوششوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے پاکستانی قیادت اور امریکی انتظامیہ کے درمیان قریبی روابط اور مسلسل ہم آہنگی کو بھی سراہا۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دوست ممالک کے تعاون سے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل مخلصانہ کوششیں مثبت نتائج لائیں گی۔​

ملاقات کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے تصادم کو ٹالنے میں صدر ٹرمپ اور سیکریٹری روبیو کے کلیدی کردار کی تہہ دل سے تعریف کی۔​نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال پر پاکستان کے تحفظات کا بھی اظہار کیا اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں بہتر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔​

دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے پاکستان-امریکہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جس کی بنیاد اعلیٰ سطحی روابط اور علاقائی امن، سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے مشترکہ مفادات پر ہے۔