نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کے فیصلے تک پی ایم ڈی سی نے میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو تعلیمی سیشن 2024-25 کی ٹیوشن فیس وصول کرنے سے روک رکھا ہے،وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اپنے عبوری نوٹس مورخہ 8 جنوری 2025 کے ذریعے تمام سرکاری و نجی میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعلیمی سیشن 2024-25 کے لیے اس وقت تک کسی قسم کی ٹیوشن فیس وصول نہ کریں جب تک نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اپنے عبوری نوٹس مورخہ 8 جنوری 2025 کے ذریعے تمام سرکاری و نجی میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعلیمی سیشن 2024-25 کے لیے اس وقت تک کسی قسم کی ٹیوشن فیس وصول نہ کریں جب تک نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی برائے میڈیکل ایجوکیشن ریفارمز کی سفارشات کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ جاتا۔

ایوان بالا میں ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت میڈیکل تعلیم کے شعبے میں شفافیت، یکسانیت اور طلبہ و والدین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اسی سلسلے میں نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اداروں سے متعدد بار مراسلت کی تاکہ سالانہ ایک اعشاریہ آٹھ (1.8) ملین روپے کی مقررہ ٹیوشن فیس کی حد پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔وزیر مملکت نے بتایا کہ عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن مورخہ 6 اکتوبر 2025 کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کو آخری موقع فراہم کیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ 13 اکتوبر 2025 تک اپنی تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں۔

ان رپورٹس میں وصول کی گئی ٹیوشن فیس کی مکمل تفصیلات، زائد وصول شدہ رقم کی واپسی کا طریقہ کار اور آئندہ تعلیمی سیشن کے لیے مجوزہ ایڈجسٹمنٹس کی وضاحت شامل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2022 کی دفعہ 20 کی ذیلی دفعات (7) اور (8) کے تحت قائم کردہ ٹیوشن فیس ریگولیشن کمیٹی اس وقت فیس پالیسی کا جامع جائزہ لے رہی ہے تاکہ اسے معیاری اور قابلِ عمل بنایا جا سکے، اس کا مقصد ملک بھر میں میڈیکل و ڈینٹل تعلیم کے اخراجات کو منظم کرنا اور غیر ضروری فیسوں کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔

ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی، حقائق چھپانے یا غلط بیانی کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا، ایسی صورت میں تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے جس میں ادارے کی منظوری (اکریڈیٹیشن) کی معطلی، طلبہ کے داخلوں پر پابندی، یا پی ایم اینڈ ڈی سی ایکٹ 2022 کی دفعہ 33 کے تحت مزید قانونی کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد میڈیکل تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور طلبہ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اس حوالے سے کسی بھی دباؤ یا مفاداتی مہم کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔