نامور موسیقار اور سارنگی نواز استاد بندو خان کی برسی منگل کو منائی گئی

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):نامور موسیقار اور سارنگی نواز استاد بندو خان کی برسی منگل کو منائی گئی۔ استاد بندو خان 1880ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد علی جان خان بھی سارنگی نواز تھے اور استاد ممّن خان جنھوں نے سر ساگر ایجاد کیا تھا ان کے ماموں تھے۔ استاد بندو خان نے سالہا سال اپنے ماموں سے سارنگی کے اسرار و رموز سیکھے پھر وہ …

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):نامور موسیقار اور سارنگی نواز استاد بندو خان کی برسی منگل کو منائی گئی۔ استاد بندو خان 1880ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد علی جان خان بھی سارنگی نواز تھے اور استاد ممّن خان جنھوں نے سر ساگر ایجاد کیا تھا ان کے ماموں تھے۔

استاد بندو خان نے سالہا سال اپنے ماموں سے سارنگی کے اسرار و رموز سیکھے پھر وہ ایک ملنگ میاں احمد شاہ کے شاگرد ہوئے جنھوں نے انتہائی شفقت اور محبت سے بندو خان کو اپنے علم کا سمندر منتقل کر دیا۔

استاد بندو خان آل انڈیا ریڈیو، دہلی اسٹیشن کے قیام کے فوراََ بعد ہی اس سے منسلک ہو گئے تھے۔ انھوں نے ریاست رام پور اور اندور کے دربار میں اپنے فن کی بدولت عزت پائی ۔ استاد بندو خان قیام پاکستان کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کی قدیم کلاسیکی موسیقی کو سمجھنے اور اس کا حق ادا کرنے کی غرض سے استاد بندو خان نے سنسکرت بھی سیکھی۔ یہ ان کے اپنے فن سے لگاؤ اور جنون کی ایک مثال ہے۔

استاد بندو خان کوان کی وفات کے بعد 1959ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔استاد بندو خان مختصر علالت کے بعد 13 جنوری 1955ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔موسیقار برادری اور مداحوں کی جانب سے ان کی برسی کے موقع پر ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

مزید خبریں