نجی شعبے کو زیادہ مواقع ملنے اور معیشت میں نجی شعبے کے موثر کردار کو یقینی بنانے کے لیےحکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہی ہے،وزیر خزانہ کا لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل سے خطاب

وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نجی شعبے کو زیادہ مواقع ملنے اور معیشت میں نجی شعبے کے موثر کردار کو یقینی بنانے کے لیےحکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہی ہے, اصلاحات، مالی معاملات میں شفافیت اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات سے ملک کی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نجی شعبے کو زیادہ مواقع ملنے اور معیشت میں نجی شعبے کے موثر کردار کو یقینی بنانے کے لیےحکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہی ہے, اصلاحات، مالی معاملات میں شفافیت اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات سے ملک کی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔

انہوں نے یہ بات پاکستان ہائی کمیشن لندن کے زیر اہتمام پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں لندن کے معروف سرمایہ کاروں اور عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد، وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اور برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہی ہے تاکہ نجی شعبے کو زیادہ مواقع ملیں اور وہ معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی مالی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بجٹ خسارے میں کمی ہوئی ہے، حکومتی آمدن میں اضافہ ہوا ہے اور مالی و ادارہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مالی معاملات میں شفافیت اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات سے ملک کی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے ٹیکس کی بنیاد میں وسعت اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات ختم کر دئیے گئے ہیں اور ٹیکس کے معاملے میں کسی کے ساتھ خصوصی رعایت نہیں برتی جا رہی ۔

تاہم تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں آنے والے شدید سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے تمام جائزے مقررہ وقت پر کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جبکہ ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری بھی آئی ہے۔بعد ازاں سوال و جواب کے سیشن میں وزیر خزانہ نے مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ اس دوران پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری کے ماحول، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون اورمختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔