نسلی تعصب سے دل برداشتہ آسٹریلوی ٹینس اسٹار ڈیسٹنی ایوا کی 25 برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا اعلان

میلبورن۔20فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کی ٹینس کھلاڑی ڈیسٹنی ایوا نے انکشاف کیا ہے کہ برسوں تک نسلی جملوں اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کے بعد انہوں نے 2026 کے سیزن کے اختتام پر کھیل سے کنارہ کشی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق میلبورن میں پیدا ہونے والی 25 سالہ ڈیسٹنی ایوا کھلاڑی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کم عمری میں مقابلوں کے دوران بعض …

میلبورن۔20فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کی ٹینس کھلاڑی ڈیسٹنی ایوا نے انکشاف کیا ہے کہ برسوں تک نسلی جملوں اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کے بعد انہوں نے 2026 کے سیزن کے اختتام پر کھیل سے کنارہ کشی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق میلبورن میں پیدا ہونے والی 25 سالہ ڈیسٹنی ایوا کھلاڑی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کم عمری میں مقابلوں کے دوران بعض افراد انہیں مرد اور بندرجیسے توہین آمیز القابات سے پکارتے تھے جبکہ انہیں ٹرانس جینڈربھی کہا گیا، جس سے ماحول انتہائی معاندانہ محسوس ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ دیگر کھلاڑیوں نے براہِ راست کچھ نہیں کہا مگر پسِ پردہ منفی رویّوں اور بناوٹی مسکراہٹوں نے ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا۔ ڈیسٹنی ایوا نے اپنے کیریئر میں 2024 میں خواتین کے سنگلز مقابلوں کی عالمی درجہ بندی میں 147 اور ڈبلز میں 133 نمبر تک رسائی حاصل کی، جبکہ 2019 میں انہوں نے اُس وقت کی عالمی نمبر 10 کھلاڑی آریاناسبالینکا کو نیدرلینڈز میں شکست دے کر نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔

کھیل سے علیحدگی کے اعلان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں انہوں نے آن لائن نفرت انگیز مہم، جواریوں کی دھمکیوں اور کھیل کے اندر موجود مبینہ نسل پرستی و تعصب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹینس کی ظاہری شائستگی کے پسِ پردہ بعض اوقات ایسا ماحول موجود ہوتا ہے جو مختلف پس منظر رکھنے والے کھلاڑیوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔