لاہور ہائیکورٹ کا کرایہ داری مقدمات میں یکطرفہ کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ نے کرایہ داری مقدمات میں یکطرفہ کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے درخواست گزار کے خلاف رینٹ ٹربیونل اور اپیلیٹ عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے ۔

لاہور۔29جولائی (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے کرایہ داری مقدمات میں یکطرفہ کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے درخواست گزار کے خلاف رینٹ ٹربیونل اور اپیلیٹ عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے ۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے جبکہ انصاف کی فراہمی میں غیر ضروری جلد بازی انصاف کو دفن کرنے کے برابر ہے۔ عدالت نے اس فیصلے کو کرایہ داری مقدمات کے لیے عدالتی نظیر بھی قرار دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ مخالف فریق یکطرفہ کارروائی شروع ہونے کے بعد دس روز کے اندر پیروی کی درخواست دائر کرنے کا حق رکھتا ہے اور اگر یکطرفہ کارروائی قانون کے مطابق نہ ہو تو اس کی بنیاد پر دیا گیا فیصلہ بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ رینٹ ٹربیونل نے یکطرفہ کارروائی سے قبل نوٹس کی درست تعمیل یقینی نہیں بنائی اور کرایہ داری قانون میں درج طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ مزید کہا گیا کہ پیروی کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ بھی قانون کے برخلاف تھا۔عدالت نے دونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت تصور کیا جائے اور ٹرائل کورٹ چار ماہ کے اندر میرٹ پر فیصلہ کرے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ فریقین کی جانب سے التوا کی کوئی درخواست منظور نہ کی جائے۔