نسل کشی انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر حملہ اور عالمی اخلاقی نظام کی سنگین پامالی ہے، 9 دسمبر کا دن انسانیت کو یہ یاد دلانے کیلئے ہے کہ دنیا میں انصاف ہی عزت انسانی کی بحالی کا واحد راستہ ہے، راجہ محمد ظفر الحق

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):سیکرٹری جنرل موتمر العالم الاسلامی سینیٹر(ر) راجہ محمد ظفر الحق نے کہا ہے کہ نسل کشی انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر حملہ اور عالمی اخلاقی نظام کی سنگین پامالی ہے، اقوام متحدہ کے تحت 9 دسمبر کا دن انسانیت کو یہ یاد دلانے کے لیے ہے کہ دنیا میں انصاف ہی عزت انسانی کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔ وہ عالمی یوم انسداد نسل کشی کے …

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):سیکرٹری جنرل موتمر العالم الاسلامی سینیٹر(ر) راجہ محمد ظفر الحق نے کہا ہے کہ نسل کشی انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر حملہ اور عالمی اخلاقی نظام کی سنگین پامالی ہے، اقوام متحدہ کے تحت 9 دسمبر کا دن انسانیت کو یہ یاد دلانے کے لیے ہے کہ دنیا میں انصاف ہی عزت انسانی کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔ وہ عالمی یوم انسداد نسل کشی کے موقع پرمسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام منگل کو اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع ’’یوم یادگار شہدائے نسل کشی اور انسداد جرم نسل کشی‘‘ تھا جس کی صدارت سینیٹر(ر) راجہ محمد ظفر الحق نے کی ۔

انہوں نے اپنے خطاب میں تاریخی اور موجودہ مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے سربرینیتسا میں 8,372 سے زائد مسلمان مردوں اور بچوں کا قتل عام عالمی تاریخ کا ایسا داغ ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا، روہنگیا مسلمانوں پر میانمار میں ہونے والے بے انتہا ظلم و جبر نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ان کا مقدمہ آج عالمی عدالت انصاف کے سامنے کھڑا ہے، قبرص کے ترک مسلمان طویل عرصے تک قتل و غارت، محاصروں اور جبری بے دخلی کا شکار رہے، لیکن ان کا دکھ آج بھی عالمی مکالمے میں دب کر رہ جاتا ہے۔

سینیٹر ظفر الحق نے خاص طور پر فلسطین کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اس وقت بدترین انسانی المیے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سمیت اعلیٰ اسرائیلی قائدین کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹس برقرار رکھے ہیں اور یہ فیصلہ عالمی قانون کی بالادستی کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کشمیر اور چیچنیا میں دہائیوں سے جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی مسلسل پامالی اور عالمی ضمیر کی خاموشی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔سینیٹرراجہ ظفر الحق نے کہا کہ یہ تمام سانحات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں مسلم برادری کے خلاف منظم جبر اور امتیازی سلوک بڑھتا جا رہا ہے جبکہ عالمی طاقتیں خاموش رہ کر ظالم کی معاون بن جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوموں کو محض اعداد و شمار نہ سمجھیں بلکہ انسانیت کا حصہ سمجھ کر ان کی جدوجہد کا ساتھ دیں، انصاف کا تقاضا کریں اور ظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔

انہوں نے مسلم انسٹیٹیوٹ کی علمی و فکری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صاحبزادہ سلطان احمد علی کی قیادت میں ادارہ عالمِ اسلام کے مسائل کی جس بصیرت، حکمت اور جرات سے نشاندہی کر رہا ہے، وہ لائق تحسین ہے۔آخر میں انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔

‘‘ انہوں نے کہا کہ انصاف ہمارے لیے اختیار نہیں بلکہ حکم ہے اور مظلوم کا ساتھ دینا ہماری اخلاقی و ایمانی ذمہ داری ہے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے مظلوموں کو استقامت، مظاہرین کو ہمت اور ہم سب کو ظلم کے مقابلے میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔

مزید خبریں