نسٹ میں ساتبایوف قازق کلچرل سنٹر کا افتتاح، پاکستان اور قازقستان کے درمیان ایک مضبوط اور پائیدار پل کی بنیاد رکھ رہے ہیں، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم سیاسات نوربیک نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی کے ہمراہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں ساتبایوف قازق کلچرل سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خالد مگسی نے کہا کہ آج ہم صرف ایک عمارت کا افتتاح نہیں کر رہے بلکہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان ایک مضبوط …

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم سیاسات نوربیک نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی کے ہمراہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں ساتبایوف قازق کلچرل سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خالد مگسی نے کہا کہ آج ہم صرف ایک عمارت کا افتتاح نہیں کر رہے بلکہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان ایک مضبوط اور پائیدار پل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ساتبایوف قازق کلچرل سینٹر کا قیام تعلیمی سفارتکاری میں ایک اہم سنگ میل ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ مرکز ایک جدید اور طالب علم دوست پلیٹ فارم ہوگا جہاں تاریخ اور مستقبل یکجا ہوں گے اور طلبہ و محققین کو عالمی معیار کے تعلیمی و تحقیقی مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی دنیا کی رفتار سے ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے اور مستقبل کا راستہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے ہو کر گزرتا ہے۔

خالد مگسی نے کہا کہ دو ممتاز جامعات کے اشتراک سے نہ صرف تعلیمی تعاون فروغ پائے گا بلکہ تحقیق، اختراع اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ایشیا پاکستان کے دل کے بہت قریب ہے اور پاکستان کو قازقستان کے تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم سیاسات نوربیک نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان مشترکہ ثقافت اور تاریخ کے حامل ہیں اور ڈیڑھ سو سال قبل دونوں خطے ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔

انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تعلیمی اور سائنسی تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور نوجوان نسل کو باہمی سیکھنے اور ترقی کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔