نصف صدی کے بعد چاند کی طرف انسان بردار مشن کی تیاری مکمل ، امریکی اور کینیڈین خلا باز 10 روزہ مشن کے دوران چاند کے گرد مدار میں چکر لگا کر واپس آئیں گے
نصف صدی کے بعد چاند کی طرف انسان بردار مشن کی تیاری مکمل ، امریکی اور کینیڈین خلا باز 10 روزہ مشن کے دوران چاند کے گرد مدار میں چکر لگا کر واپس آئیں گے
واشنگٹن۔1اپریل (اے پی پی):امریکی خلائی ادارے ’’ناسا‘‘ نے چاند کے تاریخی مشن کی تیاری مکمل کر لی ہے اور 1972 کے بعد پہلا انسان بردار خلائی جہاز روانگی کیلئے تیار ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ناسا کا تاریخی مشن ’’آرٹیمس 2‘‘ فلوریڈا سے یکم اپریل کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 24 منٹ پر (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 3:24 بجے) روانہ ہو گا، خلائی مشن میں 3 مرد اور ایک خاتون خلا باز شامل ہے اور اس مشن کو خلائی تحقیق کے نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن تقریباً 10 روزہ مشن پر روانہ ہوں گے جس میں وہ چاند کے گرد مدار میں چکر لگائیں گے تاہم خلا باز اس پر اترے بغیر واپس آئیں گے۔
یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں پہلی بار کسی سیاہ فام شخص، پہلی بار ایک خاتون اور ایک غیر امریکی خلا باز کو چاند کے مشن میں شامل کیا گیا ہے۔یہ ناسا کے نئے راکٹ “ایس ایل ایس” کی پہلی انسان بردار پرواز بھی ہوگی جو مستقبل میں بار بار چاند پر واپسی اور وہاں مستقل اڈہ قائم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے تاکہ مزید خلائی تحقیق خصوصاً مریخ تک رسائی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
خلا باز کرسٹینا کوچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چاند ہمارے پورے نظام شمسی کی تشکیل کا گواہ ہے، یہ مریخ تک پہنچنے کا ایک اہم سنگ میل بھی ہے جہاں ماضی میں زندگی کے آثار ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔یہ مشن ابتدائی طور پر فروری میں روانہ ہونا تھا، تاہم متعدد تکنیکی مسائل کے باعث تاخیر ہوئی اور راکٹ کو مزید تجزیے اور مرمت کیلئے واپس ہینگر بھی لے جایا گیاتاہم اب امریکی خلائی ادارے کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر امیت کشاتریہ کے مطابق راکٹ، نظام اور عملہ سب تیار ہیں۔
ناسا حکام کا کہنا ہے کہ حتمی تیاریاں تسلی بخش انداز میں جاری ہیں اور موسم بھی سازگار دکھائی دے رہا ہے۔آرٹیمس 2 کا مقصد راکٹ اور خلائی جہاز کی کارکردگی کی تصدیق کرنا ہے تاکہ 2028 میں چاند پر لینڈنگ کی راہ ہموار ہو سکے تاہم اس ہدف پر ماہرین نے خدشات کا اظہار کیا ہے ،خلا بازوں کو چاند کی سطح پر اترنے کیلئے ایک علیحدہ لینڈر درکار ہوگا۔









