نصف صدی کے وقفے کے بعد انسان بردار خلائی مشن چاند کی طرف روانہ

کینیڈا ۔2اپریل (اے پی پی):نصف صدی سےزیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان بردار خلائی مشن چاند کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق تین امریکی اور ایک کینیڈین خلا باز خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے بہت بڑے راکٹ پر سوار ہو کر چاند کے گرد مدار میں گردش کے دس روزہ سفر پر روانہ ہو گئے۔ دیوہیکل نارنجی اور سفید رنگ کا …

کینیڈا ۔2اپریل (اے پی پی):نصف صدی سےزیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان بردار خلائی مشن چاند کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق تین امریکی اور ایک کینیڈین خلا باز خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے بہت بڑے راکٹ پر سوار ہو کر چاند کے گرد مدار میں گردش کے دس روزہ سفر پر روانہ ہو گئے۔ دیوہیکل نارنجی اور سفید رنگ کا راکٹ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6بج کر 35 منٹ پر امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہوا۔ مشن پر روانہ ہونے والوں میں مشن کمانڈر امریکی خلاباز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ ساتھ کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں اس کامیاب لانچ کو بہت بڑی بات قرار دیتے ہوئے اپنے بہادر خلابازوں کی تعریف کی۔

خلا باز اس وقت زمین کے گرد مدار میں ہیں، جہاں وہ پہلی بار انسانوں کو خلا میں لے جانے والے اس خلائی جہاز کے قابل اعتماد ہونے اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے حوالے سے کچھ ٹیسٹ کریں گے۔ وہ ڈاکنگ سمولیشنز کے دوران اسے خود چلانے کی صلاحیتوں کا بھی تجربہ کریں گے۔ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر امت کھشتری نے بتایا کہ ابتدا میں مشن میں کئی چھوٹی موٹی خرابیوں کی نشاندہی ہوئی تھی جن پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے خلائی جہاز کے ساتھ رابطے میں ایک عارضی مسئلے کا بھی ذکر کیا جسے بعد میں حل کر لیا گیا۔ آئزک مین نے کہا کہ خلابازمحفوظ ہیں، وہ خیریت سے ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔