نواز شریف کو واپس لانے کیلئے خود لندن جانا پڑا تو جائوں گا، اپوزیشن کی ساری کوشش این آر او لینے کیلئے ہے جو میں کبھی نہیں دوں گا،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے خود لندن جانا پڑا تو جائوں گا، اپوزیشن کی ساری کوشش این آر او لینے کیلئے ہے جو میں کبھی نہیں دوں گا، یہ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، اپوزیشن 30 سال سے پیسہ چوری کر رہی ہے، کرپشن اور مہنگائی کے خاتمہ کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں، اسرائیل …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے خود لندن جانا پڑا تو جائوں گا، اپوزیشن کی ساری کوشش این آر او لینے کیلئے ہے جو میں کبھی نہیں دوں گا، یہ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، اپوزیشن 30 سال سے پیسہ چوری کر رہی ہے، کرپشن اور مہنگائی کے خاتمہ کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں، اسرائیل کو پاکستان کی بہادر فوج سے ڈر ہے، بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا ہے اور نواز شریف کو ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اقتدار میں رہوں یا نہ رہوں ان چوروں کو کبھی واپس اقتدار میں نہیں آنے دوں گا اور انہیں نہیں چھوڑوں گا، ساری قوم کو سڑکوں پر نکالوں گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم معیشت کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، کم آمدن والے طبقہ کیلئے سہولیات پیدا کر رہے ہیں، بینکوں کو پابند کریں گے کہ مکانات کی تعمیر کیلئے پانچ فیصد شرح سود پر قرض دیں، شرح سود بہت زیادہ بڑھی تو سات فیصد شرح سود پر گھروں کے لئے قرض دیں گے، شرح سود نیچے گئی تو گھروں کے لئے قرض میں بھی شرح سود کم کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہی نہیں اسحاق ڈار بھی ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، شہباز شریف کا بیٹا اور نواز شریف کے دونوں بیٹے بھاگے ہوئے ہیں، ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان پر دبائوڈالنا ہے، دس سال پہلے کہا تھا کہ یہ سب اکٹھے ہوں گے، ان سب کو جانتا ہوں کہ یہ کیا تھے اور کیا بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف 30 سال سے پیسہ چوری کر رہا ہے ان کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے پاس کتنی رقم ہے، حسین حقانی گھٹیا آدمی ہے جو باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس انٹیلی جنس رپورٹس آتی ہیں کہ یہ کن لوگوں سے ملتے ہیں۔ بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے مگر اسے معلوم ہے کہ پاکستان کی فوج دنیا کی ایک طاقتور ترین فوج ہے اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے لیکن اسے اپنے عزائم میں ناکامی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے مجھ پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی، یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں، ان کی کوشش تھی کہ ملک کو ڈیفالٹ کریں تاکہ عمران خان چلا جائے۔ شہباز شریف نے وطن واپس نہیں آنا تھا لیکن کورونا کے ڈر سے وہ ملک واپس آئے، ان کے خلاف ایسے شواہد مل گئے ہیں کہ اب وہ نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف ثبوت دستاویزات کی شکل میں موجود ہیں، فیٹف کے معاملے پر این آر او لینے کے لئے انہوں نے بلیک میلنگ کی، بلیک میلنگ میں جب یہ ناکام ہوئے تو باپ بیٹی باہر نکل آئے۔ انہوں نے کہا کہ جو نواز شریف بیمار تھا اچانک باہر نکل آیا اور اب کی بیٹی بھی باہر نکل آئی اور سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جلسوں پر میں نے اپنی پارٹی کے لوگوں سے کہا کہ انہیں جلسے کرنے دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو صحیح سمت پر ڈال دیا ہے، ہم 10 ارب ڈالر قرض کی قسط ادا کر رہے ہیں، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کو اڑھائی ارب ڈالر قرض کی قسط ادا کرنا ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور آئی جی کے اغواءکا معاملہ ایک مذاق ہے، چھوٹے موٹے مقدمے کرکے ان لوگوں کو ہیرو بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کی لابیاں امریکہ میں ایک ساتھ کام کرتی ہیں، بھارتی میڈیا پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ عمران خان کو نکالا جا رہا ہے جو نواز شریف کو ہیرو بنا رہا ہے، بھارتی میڈیا پاک فوج کے خلاف بول رہا ہے اور نواز شریف کی تعریفیں کر رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی مقروض گھر کو بھی ٹھیک کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے، 30 سال سے بیورو کریسی نے جو گند ڈالا ہے اسے ایک بٹن دبا کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، اس میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ تھا، جب ہم نے ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو قوم کو دقت کا سامنا کرنا پڑے گا، ساری دنیا کے اندر جب ایسے حالات ہوتے ہیں تو لوگ مشکل وقت سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے پہلے پانچ سال کا مشاہدہ کیا جائے تو انتہائی مشکل حالات تھے، لوگ پیٹ پر پتھر باندھ کر سوتے تھے اور وہاں منافقین بھی موجود ہوتے تھے، ہمارے ملک کی موجودہ صورتحال کو بھی دیکھ لیں یہ لوگ منافقین ہیں یا نہیں۔ پی آئی اے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی نے پی آئی اے میں بے پناہ لوگوں کو بھرتی کیا اور یہ ادارہ خسارے میں چلتا رہا لیکن آج پی آئی اے کا آپریٹنگ منافع آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہم بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلہ میں 25 فیصد مہنگی بجلی خرید رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں توازن قائم کر لیا ہے، 17 سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے خلاف جو زبان استعمال ہو رہی ہے اس کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے حساس ادارے اپنے ملک کے سربراہ کی حفاظت کرتے ہیں، میرا اور جنرل باجوہ کا ایک مقصد ہے، دونوں کا مقصد ایک اس لئے ہے کہ پہلی مرتبہ سول و عسکری قیادت متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان پراجیکٹ کے تحت ملک میں دو بڑے شہر بنا رہے ہیں، ایک کراچی اور دوسرا لاہور میں، یہ منصوبے پاکستان کو اس سطح پر لے جائیں گے کہ لوگوں کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے سندھ نے این او سی جاری کیا، لاہور کا راوی سٹی اور کراچی کے بنڈل آئی لینڈزگیم چینجر ثابت ہوں گے۔ بنڈل آئی لینڈ کا فائدہ سندھ کے عوام کو ہوگا اور اس سے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی۔ بیرون ملک پاکستانی بنڈل آئی لینڈ میں سرمایہ کاری کریں گے، افسوس ہے سندھ حکومت نے بنڈل آئی لینڈ کی این او سی دے کر واپس لی۔ بنڈل آئی لینڈ کا فائدہ سندھ اور راوی سٹی کا فائدہ پنجاب کو ہو گا۔ نواز شریف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے نواز شریف کو واپس لا کر جیل میں ڈالیں، ہم کیوں ملک کو لوٹنے والے کو بیرون ملک جانے دیں، نواز شریف کی واپسی کے لئے برطانیہ جانا پڑا تو خود جائوں گا، ضرورت پڑی تو برطانوی وزیراعظم سے بھی بات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ سات ارب کا ضمانتی بانڈ مانگیں، عدلیہ نے ہماری بات نہیں مانی اور شہباز شریف کی گارنٹی لے لی۔ انہوں نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز باہر نکلی تھیں اس لئے مشرف نے نواز شریف کو جانے دیا تھا، ماضی میں وکلاءنکلے تو پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے این آر او لیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کتنی دیر اقتدار میں ہوں، یہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا واسطہ اس شخص سے پڑ گیا ہے جس نے زندگی میں صرف مقابلہ کیا ہے، کوئی جائیداد نہیں بنائی نہ کوئی کرپشن یا چوری کی ہے، میرے خاندان کا کوئی فرد سیاست میں نہیں، میں 22 سالہ جدوجہد کے بعد اس مقام پر آیا۔ معیشت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، ہم نے آہستہ آہستہ تمام مسائل پر قابو پا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے متعلق دنیا پاکستان کے اقدامات کی تعریف کر رہی ہے، امریکہ ڈبلیو ایچ او سمیت عالمی ادارے پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں، سب کہتے ہیں پاکستان نے معیشت کو بچا لیا، وبا پر بھی کنٹرول کیا، ہماری تعریفیں سن کر ان کو خطرہ ہو گیا ہے کہ صورتحال بہتری پر جا رہی ہے، برآمدات بڑھنے معیشت بہتر ہونے سے اپوزیشن کو تکلیف ہے۔ پارٹی میں کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ اپوزیشن سے بات کی جائے اور میں نے پارٹی سے پہلے دن ہی کہا کہ ایسی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ این آر او مانگیں گے، اپوزیشن کو این آر او دینے کا مطلب ملک کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان پر تمام کیسز پہلے کے ہیں، اپوزیشن کی کوشش ہے کہ عمران خان پر دبائو ڈالا جائے تاکہ نیب کو ختم کر دے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اور عدالتیں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں، میری پوری کوشش ہے کہ اس ملک کو جس دلدل میں پھنسایا گیا ہے اس سے نکالوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ گندم اور چینی کے معاملے پر لوگوں کی تکلیف پر مجھے پریشانی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دو مرتبہ غلط وقت پر بارشیں ہوئیں، فور کاسٹ کرنے والے ادارے درست کام ہی نہیں کر رہے تھے۔ اب ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سپارکو سے کام لے رہے ہیں۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ چینی زیادہ ہے، ہم نے ان کے کہنے پر چینی ایکسپورٹ کر دی، چینی ایکسپورٹ کرنے کے لئے ہم نے اڑھائی ارب کی سبسڈی بھی فراہم کی، چینی برآمد کی تو ملک میں چینی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔ یہ مافیا بیٹھا ہوا ہے جان کر قلت پیدا کرتا ہے اور قیمتیں بڑھا دیتا ہے، آئندہ چینی کی قیمتیں بڑھنے نہیں دیں گے، مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، کچھ ہفتے میں فرق نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ میری توجہ اس وقت تعمیرات کے شعبہ پر ہے، ملک میں 50 سال بعد بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم بن رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں شجرکاری کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے کن لوگوں کو پیسہ کھلایا ہمیں سب معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کبھی میڈیا سے کوئی خوف نہیں ہے، ہمیں مسئلہ صرف پروپیگنڈے اور جعلی خبروں سے ہیں۔ میڈیا کے کچھ لوگ ایسے کام کر جاتے ہیں جن سے حکومت کو نقصان ہوتا ہے۔ مغرب کے اندر میڈیا کا کوئی ادارہ ایسا نہیں کر سکتا جس سے حکومت کو نقصان پہنچے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے پوری کوشش کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ الیکشن کرانے کے لئے بھی تیار ہوں لیکن این آر او نہیں دوں گا۔ اگر انتخابات ہوئے تو دو تہائی اکثریت سے واپس آئوں گا، یہ لوگ بات کچھ اور کر رہے ہوتے ہیں اور اندر سے این آر او مانگ رہے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن جو بھی کرنا چاہتی ہے کرے ہر چیز کے لئے تیار ہوں۔ اپوزیشن سڑکوں پر دبائو ڈالے یا استعفے دے، میں تیار ہوں، دوبارہ الیکشن کرانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے بھی تیار ہوں لیکن این آر او کسی صورت نہیں دوں گا۔