لاہور۔8 جولائی(اے پی پی ) نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ،قومی تاریخ و ادبی ورثہ سید علی ظفر نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ عام انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی آئین میں کوئی گنجائش ہے، ‘ عا م انتخابات 25 جولائی کو مقررہ وقت پر ہی ہونگے‘ پاکستان میں قانون سب کیلئے برابر ہے‘ اگر عدالت نے نواز شریف اور …
نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ سید علی ظفر کی لاہور پریس کلب میں ”میٹ دی پریس“سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔8 جولائی(اے پی پی ) نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ،قومی تاریخ و ادبی ورثہ سید علی ظفر نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ عام انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی آئین میں کوئی گنجائش ہے، ‘ عا م انتخابات 25 جولائی کو مقررہ وقت پر ہی ہونگے‘ پاکستان میں قانون سب کیلئے برابر ہے‘ اگر عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کو ریلیف نہ دیا تو وطن واپسی پر ان کو گرفتار ہونا پڑیگا‘ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے حوالے سے نیب کی مدد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ‘آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کی بچت بھی ضروری ہے‘ پانی کی قلت کے معاملے پر ہم نے ماہرین سے مدد مانگی ہے تاکہ ہم ایسی دستاویز تیار کرسکیں جو آئندہ کیلئے گائیڈ لائن بن سکے ۔ وہ اتوار کو لاہور پریس کلب کے پروگرام ”میٹ دی پریس“ میں صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔ اس موقع پر لاہور پریس کلب کے عہدیداران اور سینئر صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ نگران وفاقی وزیر نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر عدالت اےک مقدمہ چلا رہی ہے اور وہ اس مےں فیصلہ یا سزا سناتی ہے تو حکومت کا کام اس پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے جس سے عدالتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی فیملی کے کیس میں عدالت کا فیصلہ آچکا ہے جس پر عملدرآمد کرنا حکومت کا کام ہے اگر اس پر ان کو کوئی شکایت ہے تو اس کی اپیل پہلے ہائیکورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ میں کی جاسکتی ہے۔








