اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):چیئرمن نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب زیرو کرپشن سو فیصد ترقی پر بھرپور یقین رکھتا ہے، نیب بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب زیرو کرپشن سو فیصد ترقی پر بھرپور یقین رکھتا ہے، نیب نئے عزم و استقلال …
نیب زیرو کرپشن سو فیصد ترقی پر بھرپور یقین رکھتا ہے، نیب بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے، چیئرمین جسٹس جاوید اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):چیئرمن نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب زیرو کرپشن سو فیصد ترقی پر بھرپور یقین رکھتا ہے، نیب بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب زیرو کرپشن سو فیصد ترقی پر بھرپور یقین رکھتا ہے، نیب نئے عزم و استقلال کے ساتھ بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، نیب ملک کو کرپشن فری بنانے کے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے بھرپور محنت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران محنت، عزم، شفافیت اور میرٹ پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں، بدعنوانی کے خلاف نیب کی آگاہی مہم کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسے معتبر اداروں نے سراہا ہے۔ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نیا نظام وضع کیا ہے جوکہ دو انویسٹی گیشن افسران، ایک لیگل کنسلٹنٹ، ایک مالیاتی ماہر پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ متعلقہ ڈائریکٹر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر/کیس آفیسر کی زیر نگرانی کام کرتی ہے تاکہ شفافیت پر مبنی انکوائری، انویسٹی گیشن یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کے معیار میں بہتری آ ئی ہے، اس لیبارٹری میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب واحد ادارہ ہے جس نے سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے جو کہ نیب کی شاندار کارکردگی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999ءکے اقتباس میں نیب کو بدعنوانی کے خاتمہ اور لوٹی گئی رقم وصول کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 466 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح68.8 فیصد ہے جو کہ ملک کے کسی بھی اینٹی کرپشن کے ادارے کے مقابلہ میں بہترین کارکردگی ہے۔








