نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے قیام سے سرکاری اداروں میں ای گورننس کے فروغ اورشہریوں کو فوری اورموثر خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی

اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے قیام سے سرکاری اداروں میں ای گورننس کے فروغ اورشہریوں کو فوری اورموثر خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ صدرمملکت نے اس ضمن میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا آرڈی ننس جاری کردیاہے۔ اس آرڈی ننس کے تحت وفاقی حکومت ایک ماہ کے اندر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈکے قیام کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کرے گی، بورڈ کا …

اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے قیام سے سرکاری اداروں میں ای گورننس کے فروغ اورشہریوں کو فوری اورموثر خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ صدرمملکت نے اس ضمن میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا آرڈی ننس جاری کردیاہے۔ اس آرڈی ننس کے تحت وفاقی حکومت ایک ماہ کے اندر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈکے قیام کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کرے گی، بورڈ کا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہوگا جبکہ وفاقی حکومت کی منظوری سے ملک میں کہیں بھی بورڈ کا دفتر یا دفاتر قائم کئے جاسکیں گے۔ صدر مملکت بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ متعلقہ ڈویژن کا وزیر بلحاظ عہدہ وائس چئیرمین ہوں گے۔ متعلقہ ڈویژن کے سیکرٹری، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری سائنس وٹیکنالوجی بھی بلحاظ عہدہ بورڈ کے ممبران ہوں گے، اس کے علاوہ نجی شعبے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پانچ ممتاز ماہرین/ سٹیک ہولڈرز، جن کی نامزدگی وزیراعظم کریں گے ، بھی بورڈ کے ممبران ہوں گے۔ ایک ممتاز خاتون ماہرتعلیم بھی بورڈ کی ممبر ہوں گی جن کی نامزدگی وزیراعظم پاکستان کریں گے۔نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، ماتحت اداروں اوردفاترمیں ای گورننس کے فروغ کیلئے تکنیکی رہنمائی اور ان وزارتوں، ڈویژنز، ماتحت اداروں اوردفاترمیںموثر اورباکفایت ای گورننس پروگرامز کے نفاذ میں تعاون فراہم کرے گا۔ بورڈ وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، ماتحت اداروں اوردفاترمیں ای گورننس کو فروغ دینے کے ضمن میں بنیادی ڈھانچہ کی فراہمی میں تعاون، متعلقہ عملہ کی مہارت اوراستعدادکارمیں اضافہ کیلئے تربیت کی فراہمی میں تعاون کے علاوہ باقاعدہ بنیادوں پروفاقی وزارتوں، ڈویژنز، ماتحت اداروں اوردفاترمیں ای گورننس اورڈیجیٹائزیشن کیلئے جائزہ اورنگرانی اوران ایریاز کی نشاندہی کرے گا جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مداخلت/ تعاون کی ضرورت ہوگی، آٹومیشن کے ضمن میں بزنس پراسیس ری انجنئیرنگ (بی آرپی) سے استفادہ کیا جائے گا۔ ای گورننس کے ضمن میں معیارکے قیام، سوفٹ وئیرز کی تیاری وبنیادی ڈھانچہ کی تیاری میں تعاون فراہم کرنے کا ذمہ دارہوگا۔اس کے علاوہ بورڈ ضرورت پڑنے پرصوبوں کے ساتھ تعاون اورانہیں سہولیات کی فراہمی کا بھی مجاز ہوگا۔