نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے پیش نظر ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا ہے۔راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور اور فیصل آباد کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے بالائی علاقوں میں بارشوں کے پیش نظر ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے پیش نظر ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا ہے۔راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور اور فیصل آباد کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔منگل کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان جبکہ سندھ کے اضلاع میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر میں بھی شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال متوقع ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی ممکنہ سیلابی صورتحا ل کا خدشہ ہے۔
میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔چترال، سوات، دیر، مالاکنڈ، باجوڑ، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ، مردان، صوابی، کرک، ہنگو، خیبر، کرم، شمالی وزیرستان، شانگلہ اور پشاور کے ندی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔بلوچستان کے ژوب، بارکھان، زیارت، موسیٰ خیل، دکی اور بالخصوص دریائے ناری اور دریائے لہڑی کے علاقوں میں سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے۔گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال متوقع ہے۔غذر، یاسین، اشکومن، تانگیر، داریل، دیامر، استور، گانچھے، ہنزہ اور گلگت کے دریاؤں اور ندی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
چپورسن، شمشال، خنجراب، شنگو، روپال، داریل، تانگیر اور بگروٹ گاہ سمیت متعدد مقامی آبی گزرگاہیں میں بہاؤ کی شدت کی اضافہ متوقع ہے۔آزاد کشمیر کے باغ، مظفرآباد، ہٹیاں بالا، بھمبر، راولاکوٹ، پلندری اور کوٹلی کے علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں۔سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اوردریا کے کناروں سے دور رہیں۔مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔سیلابی پانی یا تیز بہائو کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں۔ یاد رکھیں، تیز بہائو والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے۔مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہائو والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔ سفر کے دوران اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ضرور رکھیں۔
احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے مسلسل اور بروقت معلومات اور الرٹس کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ”سے بروقت معلومات حاصل کریں۔









