اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):نیشنل پریس کلب(این پی سی) اسلام آباد اور انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کے باہمی تعاون سے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں اور ان کے بچوں کیلئے کیر ئیر کونسلنگ سیشن کا اہتمام کیا گیا۔ کیر ئیر کونسلنگ سیشن کے دوران معروف ماہرین تعلیم نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں کیر ئیر کونسلنگ پر توجہ نہیں دی جاتی اور طلباء دوسروں …
نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے باہمی تعاون سےصحافیوں اور ان کے بچوں کیلئے کیر ئیر کونسلنگ سیشن کا اہتمام

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):نیشنل پریس کلب(این پی سی) اسلام آباد اور انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کے باہمی تعاون سے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں اور ان کے بچوں کیلئے کیر ئیر کونسلنگ سیشن کا اہتمام کیا گیا۔ کیر ئیر کونسلنگ سیشن کے دوران معروف ماہرین تعلیم نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں کیر ئیر کونسلنگ پر توجہ نہیں دی جاتی اور طلباء دوسروں سے متاثر ہو کر یا پھر والدین کی خواہش /ضد کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے ایسے شعبوں کا انتخاب کر لیتے ہیں جن میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ انھوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں پر اپنی مرضی تھونپنے کے بجائے عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے شعبوں کا انتخاب کریں جن میں بچوں کا مستقبل روشن بن سکے۔کیر ئیر کونسلنگ سیشن کے مہمان خصوصی معروف ماہر تعلیم و ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح تھے جبکہ دیگر شرکا میں معروف ماہرین تعلیم صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ڈاکٹر ابرار حسین ملک،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر بشیر،سی ای او Edufocus اعظم حبیب، ڈاکٹر افضل بابر،صدر پرائیویٹ سکولز نیٹ ورک،ملک امیر خان، صدر فیڈرل گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن، ابرا ر احمد خان، صدر شمالی پنجاب آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ مینجمنٹ ایسوسی ایشن، عدنان نثار،صدر راولپنڈی،آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ مینجمنٹ ایسوسی ایشن شامل تھے۔
سیشن میں صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیئر علی، فنانس سیکرٹری وقار عباسی، نائب صدر شاہ محمد، ممبر گورننگ باڈی تنویر شہزاد، عامر بٹ،جعفر بلتی، ماجد افسر،ڈائریکٹر میڈیا آئی بی سی سی عرفان انصاری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد احمر سمیت صحافیوں اور ان کے بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی نظامت چیئرمین ایجوکیشن کمیٹی نیشنل پریس کلب محمد عاصم جیلانی نے کی اور مہمانوں سمیت شرکا کو خوش آمدید کہا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جنہیں سکول میں لانا ہے۔ اگر یہ بچے منفی عناصر کے ہتھے چڑھ گئے تو ملک کا مستقبل تاریک ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ 80 کی دہائی میں صرف میڈیکل اور انجنیئرنگ کے شعبے ہی موجود تھے، اب مارکیٹ کی ڈیمانڈز تبدیل ہو رہی ہیں۔ دنیا میں کیریئر کونسلنگ پہلی جماعت سے ہی شروع کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بچے کی کونسلنگ نہیں ہوتی اور وہ دوسروں کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہے، بچوں کے لیے شعبوں کا انتخاب بچے کی صلاحیت اور مارکیٹ کی ڈیمانڈ پر کی جاتی ہے، اب میٹرک ٹیک شروع ہو گیا ہے، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ ایگریکلچر بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں بھی کئی شعبے آچکے ہیں۔مصنوعی ذہانت اس وقت دنیا کی ضرورت ہے، اگر ہم نے خود کو نئے دور کی ضروریات کے مطابق تیار نہ کیا تو ہمارا حال نوکیا فون والا ہو گا۔ بچے کو ٹیم ورک بھی سکھائیں، بچوں کو رضاکارانہ طور پر بھی کام کروائیں اور انھیں سپورٹس میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایکولنس کے حوالے سے آئی بی سی سی نے طریقہ کار کو آسان بنا دیا ہے۔ کنسپچوئل ایگزیمینیشن اور سٹڈی پر کام کر رہے ہیں۔ڈاکٹر بشیر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں داخلے کم نہیں ہوئے بلکہ شعبے تبدیل ہوئے ہیں اگر روایتی یونیورسٹیوں نے اپنے آپ کو تبدیل نہ کیا تو ان میں داخلے بالکل بند ہو جائیں گے۔ اعلی تعلیم بھی سکل ایجوکیشن کی طرف منتقل ہو چکی ہے یونیورسٹیاں فارن ایکسچینج پروگرام لے کر آئیں تاکہ بچہ باہر جا کر کچھ سیکھے،بچوں کو سکلڈ ایجوکیشن کی طرف لے کر جائیں۔سی ای اواعظم حبیب نے کہا کہ بچوں کو انٹرپنیورشپ کی طرف راغب کریں،ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نصاب ہے، تب تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک آج پیدا ہونے والے بچے پر کام شروع نہیں کریں گے بچوں کو آج سکھانا پڑے گا، نصاب کو بہتر بنانا ہو گا، پیسے کمانا کوئی بڑی چیز نہیں ہے، والدین بچوں کو صلاحیتوں کا اظہار ہی نہیں کرنے دیتے، بچے کو وہ پڑھنے دیں جس میں اس کی دلچسپی ہو، بچوں کو اپنی خواہشات کا غلام نہ بنائیں ،بچوں کو سوسائٹی میں سپیس دیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کو کاروبار سکھائیں، یہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔اس موقع پر انہوں نے بیرون ملک حصول تعلیم کے خواہشمند صحافیوں کے بچوں کیلئے تعلیمی معاونت کرنے کا اعلان بھی کیا ۔آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر ملک ابرار حسین نے کہا کہ اب بھی دوکروڑ 54 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں،وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق تعلیمی نظام اور نصاب میں تبدیلیاں لانا ہوں گی،یونیورسٹیوں میں بچوں کے داخلوں کے رجحان میں کمی تشویشناک ہے۔ہمیں بچوں کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق انہیں شعبے منتخب کرنے کیلئے ان کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔
صدر پرائیویٹ سکولز نیٹ ورک ڈاکٹر افضل بابر نے کہا کہ کریئر کونسلنگ کسی بھی ملک کے مستقبل کے لیے اہم ہے ۔ 5 سے 16 سال کے بچوں کو مفت تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ہمارے معاشرے میں تمام شعبے نسل نو کے لیے مل کر کام نہیں کر رہے ۔ ہمیں کیر ئیر کونسلنگ پر توجہ دینی ہوگی، والدین کو بھی اپنی خواہش کے مطابق بچوں پر سختی نہیں کرنی چاہئے بلکہ بچہ جس شعبے میں جانا چاہئے اور جو اس کے مستقبل کیلئے بہتر ہو اس میں اسے اپنا مستقبل بنانے کیلئے معاونت کرنی چاہئے۔صدر فیڈرل گورنمٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ملک امیر خان نے کہا کہ طلباء کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی کیریئر کونسلنگ ہونی چاہیے تاکہ والدین بھی جان سکیں کہ ان کے بچوں کیلئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔ والدین بچوں پر فیصلے تھونپتے ہیں،والدین کو چاہیے بچوں پر کسی مخصوص شعبے کے انتخاب کے حوالے سے دبائو نہ ڈالیں۔صدر شمالی پنجاب آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ مینجمنٹ ایسوسی ایشن ابرا ر احمد خان نے اپنے خطاب میں کیرئیر کونسلنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر صحافیوں اور ان کے بچوں نے مہمان خصوصی ڈاکٹر غلام علی ملاح و دیگر مہمانوں سے سوالات کیے اور کیر ئیر کونسلنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ صدر پی ایف یو جےافضل بٹ، سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیئر علی اور چیئرمین ایجوکیشن کمیٹی نیشنل پریس کلب محمد عاصم جیلانی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مستقبل میں بھی صحافیوں اور ان کے بچوں کیلئے ایسی تقریبات کا انعقاد کیا جائیگا۔ صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے نیشنل پریس کلب اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کو مل کر شجر کاری مہم شروع کرنے کی اہمیت پر زور دیا جسے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر ابرارحسین ملک، صدر پرائیویٹ سکولزنیٹ ورک ڈاکٹر افضل بابر و دیگر نے سراہا اور کہا کہ جلد مل کر شجر کاری مہم شروع کریں گے۔








