اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے حفاظت کےلئے فرنٹ لائن پر مامور ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف کو ذاتی حفاظتی سامان فراہم کر دیا گیا ہے، لیبارٹریز کی تعداد اور ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں، اگلے چند …
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کی معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ
اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے حفاظت کےلئے فرنٹ لائن پر مامور ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف کو ذاتی حفاظتی سامان فراہم کر دیا گیا ہے، لیبارٹریز کی تعداد اور ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں، اگلے چند روز میں مزید وینٹی لیٹرز، واک تھرو گیٹس، حفاظتی کٹس اور جراثیم کش سپرے سمیت ضروری سامان پاکستان پہنچ جائے گا۔ پیر کو یہاں معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف کے ہمراہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی ترجیح کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں فرنٹ لائن پر موجود ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو حفاظتی اور طبی سامان کی فراہمی ہے، اس سلسلہ میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو پانچ ہفتوں کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے درکار سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں کو بھی سامان فراہم کر دیا ہے تاہم ان کےلئے این ڈی ایم اے میں ون ونڈو بھی کھولی گئی ہے تاکہ جب بھی انہیں سامان کی ضرورت پڑے وہ یہ باآسانی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم لیبارٹریز کی تعداد اور ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں، اس سلسلہ میں این آئی ایچ کے تعاون اور تکنیکی رہنمائی کی روشنی میں سات مشینیں مختلف حصوں میں فراہم کر دی ہیں، کے پی کے، کے شہروں ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بہت جلد لیبارٹریز کام شروع کر دیں گی۔ اسی طرح پنجاب میں بھی دو لیبارٹریز بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، اس مقصد کے لیے دو تین دنوں میں آلات کا مسئلہ حل کر لیا جائے گا جس کے نتیجہ میں جلد ہی گجرات اور بہاولپور میں ٹیسٹ شروع ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ سرگودہا کے ہسپتالوں میں لیبارٹریز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے وہاں بھی ٹیسٹنگ کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کو بھی دو مقامات پر ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کر دی ہیں امید ہے دو تین دنوں میں وہاں ٹیسٹ شروع ہو جائیں گے۔ اسی طرح بلوچستان حکومت سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ دو لیبارٹریز کو اس قابل بنایا جائے تا کہ وہاں دو مزید مقامات جعفر آباد اور گوادر میں ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا سندھ حکومت کو آج 20 ہزار ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی گئی ہیں، پنجاب حکومت کو 5 ہزار، بلوچستان حکومت کو 4800 کٹس دی گئی ہیں جبکہ تقریباً 37 ہزار کٹس اسلام آباد میں قائم ریزرو رکھی گئی ہیں جہاں سے ضرورت کے مطابق سپلائی کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین دنوں میں چار سے پانچ پروازیں چین جائیں گی، کل پہلی پرواز جائے گی جو دیگر سامان کے ساتھ 16 وینٹی لیٹر اور ذاتی حفاظت کی تقریباً پانچ ہزار کٹس لائے گی، ایک دوسری پرواز کے ذریعے 55 ٹن سامان آئے گا جس میں دیگر ضروری سامان کے ساتھ چھڑکاو¿ کےلئے کیمیکل بھی لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کل ایک پرواز بیجنگ سے آئے گی جس میں ایک سو کے قریب واک تھرو تھرمل گیٹ بھی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 6 اپریل تک ایک لاکھ کے قریب ذاتی حفاظتی آلات کے سیٹس جبکہ 15 اپریل تک مزید ایک لاکھ آلات کے سیٹس پاکستان پہنچ جائیں گی۔ اس وقت تک 3 ہزار وینٹی لیٹرز آرڈر کئے ہیں، دنیا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر امید ہے اپریل کے آخر تک کم از کم 12 سو سے 15 سو وینٹی لیٹرز موصول ہو جائیں گے۔









